اوندر آسان نامی اسکول ٹیچر جسے مبینہ طور پر یکم اپریل کو نا معلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا اس کی اہلیہ نے ہفتے کو روز بتایا کہ وہ انقرہ پولیس ڈپارٹمنٹ  کی حراست میں ہے۔

اوندر اسان کی اہلیہ فاطمہ آسان کے مطابق اس کو شہہو کع قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نا معلوم مقام پر رکھا تھا اور جمعہ کے دن انقرہ پولیس کے حوالے کیا گیا۔

آسان کی اہلیہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اسے جمعہ کے دن پولیس کے حوالے کیے جانے سے قبل کس ادارے نے نامعلوم مقام پر رکھا تھا۔

اس نے ٹویٹ کیا: “ مجھی پتہ چلا ہے کہ میرا شوہر انقرہ کے محکمہ پولیس کی حراست میں ہے۔ انھوں نے مجھے اس سے ملنے نہیں دیا مگر ہمارا وکیل اس سے ملا ہے۔“

اوندر آسان ایک سکینڈری اسکول میں فلسفے کا ستاد تھا جسے حکومت نے گولن تحریک سے تعلق کے شبے میں بند کردیا۔

فاطمہ آسان نے بعد میں ٹویٹ کیا کہ اسے اپنے شوہر کی کار پھٹے ہوئے ٹائروں کے ساتھ انقرہ کے شینتیپے کے علاقے سے ملی۔  اس نے یہ بھی کہا کہ پولیس اور پراسیکیوٹر انچارج اس کیس کی تفتیش کرنے سے اس حد تک گریزاں ہیں کہ انھوں نے شینتیپے کے علاقے میں اس کے شہہر کی ممکنہ ریکارڈنگ دیکھنے کے لیے ایک بھی سی سی ٹی وی فوٹیج کو چیک نہیں کیا۔

اپریل کے اوائل میں پندرہ جولائی کی ناکام بغاوت کے تناظر میں اپوزیشن کے پہلے سے زیر عتاب گروپس کے افراد کی پراسرار گمشدگیاں عام ہو چکی ہیں جہاں آسان کو شامل کر کے اب تک سات کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

کچھ عرصے سے غائب ان افراد کے درمیان قدر مشترک ان کے ذاتی حالات ہیں جہاں وہ ترک حکومت کے اس کریک ڈاوئں کے نتیجے میں اپن ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جو حکومت کے ناقدین بالخصوص گولن تحریک کے خلاف کیا جا رہا ہے۔

CHP جماعت کے استنبول کے ڈپٹی نے پچیس اپریل کو وزیر اعظم بنالی یلدرم سے ایک پارلیمانی سوال میں کہا کہ ؓگاعؤوت سے قبل ایک شخص جبکہ پندرہ جولائی کے بعد سے انقرہ میں اسی انداز میں چھ دیگر افراد کو اغوا کیا گیا۔

CHP کے رکن اسمبلی نے بتایا کہ ان تمام افراد کو گولن تنظیم سے تعلق کے شبے میں پہلے ہی ملازمتوں سے بر طرف کیا جکا ہے۔ اغوا ہونے والوں سنائے الماس، مصطفیٰ اوزگر، حسین کوتئجے، ترگت چاپان، مسعودگیچر، اوندر آسان اور آیہان اوران کے متعلق معلومات دیتے ہوئے تانک اوغلو نے پوچھا کہ ان ان افراد کو بازیاب کرانے کے لیے موثر کوششیں کیوں نہیں کی جا رہیں کہ انھیں کس نے اغوا کیا ہے۔

تانک اوغلو نے یہ بھی کہا کہ ان افراد کے متعلق شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انھیں ترک نیشنل انٹیلیجنس ایجنسی (MIT) نے اغوا کیا ہے۔

(ترکش منٹ)