ترکی میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کی مانیٹرنگ کرنے والے سٹاک ہوم سینٹر فار فریڈم (SCF)  کو موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق ترک دارالحکومت میں غیر سرکاری قید خانے میں بڑے پیمانے پر تشدد کیا گیا ہے۔  یہ رپورٹ اس ادارے کی ویب سائٹ پر پیر کے دن شائع ہوئی۔

گزشتہ ہفتے ایک ہزار کے قریب گرفتاریوں کی خبر رکھنے والے وکیلوں کے ایک گروپ کے مطابق پولیس انقرہ سٹی سینٹر کے قریب واقع سپورٹس ہال میں جسے حال ہی میں قید خانے میں تبدیل کیا گیا ہے، گرفتار افراد پر تشدد اور گالم گلوچ کی مرتکب ہوئی ہے۔ سٹیٹ واٹر ورکس اتھارٹی (DSİ) کے زیر انتظام اس عمارت میں جسمانی اور زبانی ہر قسم کا تشدد جاری ہے جس میں قتل کی دھمکیاں، عصمت دری اور مارپیٹ کے ساتھ ساتھ ٹھنڈے یخ پانی سے سپرے شامل ہے۔

وکلا نے حفاظت کی خاطر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایس سی ایف کو بتایا کہ زیر حراست مرد حضرات پر نہ صرف جسمانی تشدد کیا جارہا ہے بلکہ انھیں ان کی بیویوں اور بیٹیوں کی پولیس کے ہاتھوں عصمت دری کی دھمکیاں بھی دی جارہی ہیں۔ خواتین قیدیوں کو براہ راست عصمت دری کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

ایک ملزم نے اپنے وکیل کو بتایا :“ مٰن نے تفتیش کے دوران اپنے گھر والوں کے خلاف ہر قسم کی گالم گلوچ سنی ہے۔ وہ میرے گھر والوں کی عصمت دری کی دھمیاں دیتے رہے۔ یہں ہم پر ہر قسم کا ذہنی و جسمانی تشدد روا رکھا گیا۔ میں نے ایک شخص کی سوجی ہوئی سیاہ آنکھ دیکھیی جبکہ ایک اور شخص کے لیے چلنا بھی دوبھر تھا کیونکہ انھوں نے اس کی پشت میں بندوق کا دستہ ڈالا تھا۔ بہت سے لوگوں کے جسموں پر تشدد کے نشانات ہیں۔ ایک ڈاکٹر نے تشدد کے متعلق رپورٹ لکھی مگر پولیس اس رپورٹ کی تاریخ کو غلط قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ “

اسی ملزم نے مزید بتایا کہ “ہم نے سنا کہ یہ تشدد اور گالم گلوچ لمبے عرصے تک چلے گا مگر ہمیں بتایا گیا کہ پولیس جلدی میں ہے کیونکہ وہ آنے والے ہفتوں میں سینکڑوں مزید  قیدیوں کی آمد کی توقع کر رہے ہیں۔ انھیں نئے آنے والوں کے لیے جگہ درکار ہے۔ “

وکیلوں نے بھی شکایت کی کہ اس سپورٹنگ ہال میں غیر انسانی حالات میں مقید ہزاروں افراد کے لیے صرف ایک قابل استعمال لیٹرین ہے۔ ان سب کو فرش پر صرف ایک چادر پر ایک دوسے کے ساتھ سونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔  وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کی اس قید خانے کی حالت اس بھی کہہیں زیادہ خراب ہے کیونکہ انھیں وہاں صرف محدود پہنچ حاصل ہے۔

گزشتہ ہفتے ترک پراسیکیوٹرز نے گولن تحریک سے مبینہ تعلق کے الزام میں 4,900 کے خلاف وارنٹ جاری کیے ہیں جن میں سے 1,009 افراد کو بدھ کے دن پورے ملک میں مارے جانے والے چھاپوں کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اس فہرست کی تیاری مبینہ طور پر ترکی کی نیشنل انٹیلیجنس آرگنایزیشن (MİT) نے کی تھی۔ جس نے غیر مشکوک افراد کو بھی ان کے سیاسی خیالات اور نظریات کی بنا پر اس فہرست کا حصہ بنا دیا۔

کیونکہ ان افراد کو حراست میں رکنے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں پولیس ان سے تشدد کے زریعے اقبالی بیانات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اور بہت سے کیسز میں انھیں ان کاغزات پر دستخط کرنے پر زور دیا جاتا ہے جو پہلے سے تیار کیے ہوتے ہیں۔

یہ ملزمان جن میں سے زیادہ تر اساتذہ ہیں پر الزام ہے کہ وع اس گولن تحریک کے ممبران ہیں جو صدر رجب طیب اردگان کے آمرانہ طرز حکومت کی نقاد ہے۔

گزشتہ برس حکومت کی ایک لیک رپورٹ کے مطابق ترک پولیس پورے ملک میں غیر قانونی حراستی مراکز چلا رہی ہے۔

یہ آرٹیکل ترکش منٹ میں آٹھ مئی کو شائع ہوا۔