انھیں باہر جانے دیں!

ترک حکومت ہزاروں خاندانوں کو زبر دستی ترکی میں روک کر انہیں ایک نارمل زندگی گزارنے کے حق سے محروم کر رہی ہے۔

پندرہ جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد سے 150,000 سے زائد پاسپورٹ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔  نمایاں صحافی، کامل نگار، ماہرین تعلیم اور اعلیٰ افسران کے ساتھ ساتھ ہزاروں عام شہری جن میں دوکاندار، گھریلو خواتین اور حتیٰ کہ ان کے بچے بھی شامل ہیں انھیں ترکی چھوڑنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

ہزاروں شہریوں نے اس وقت ترکی چھوڑنے کی کوشش کی جب انھیں یا تو حکومتی احکامات پر ملازمتوں سے برخواست کر دیا گیا یا پھر انھیں ترک حکومت، پولیس اور عدلیہ کے ہاتھوں قید وبند جؤکی صعوبتیں جھیلنی پڑیں۔

تاہم ان میں سے اکثریت کو ان پر سفری پاندیوں کے متعلق ائر پورٹ پر اس وقت آگاہ کیا گیا جب ان کی پرواز میں محض چند گھنٹے ہی باقی تھے۔

ترک حکومت کے بہت سے مخالفین نے ملک میں جاری پکڑ دھکڑ سے بچنے کے لیے بیرون ملک جانے کی کوشش کی۔ ان میں سے کچھ ڈوب کر ہلاک ہو گئے جب ان کی کشتیاں کھلے سمندر میں پکڑی گئیں جبکہ دیگر کئی افراد کو ترک حکام نے پکڑ کر جیل میں ڈال دیا۔

اپنے مخالفانہ خیالات کے باعث انتقامی کارروائیوں کے شکار افراد کو معاشرے میں بھی جان بوجھ کر قبول نہیں کیا جاتا، نہ ہی انھیں نئے سرے سے آغاز کرنے اور ملک میں اپنی زندگی گزارنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

انھیں ایک آہستگی سے جاری تکلیف دہ معاشرتی قتل عام کا سامنا ہے۔

ترکی پرج ڈاٹ کا کے ایڈیٹرز کی حیثیت سے ہم ان تمام واقعات پر فک مند ہیں جو انتہائی بنیادی نوعیت کے انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس خوفناک فضا میں واحد حل یہ ہے کہ ان افراد کے پاسپورٹ واپس لوٹا دیے جائیں اور انھیں ایک نئے آغاز کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی جائے۔

ہم اپنی فکر کا اظہار ان ترک عوام اور بقیہ دنیا میں ان تمام لوگوں کو آگاہ کرنے کے لیے کر رہے ہیں جو اب بھی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔

ہم ترک حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ پکڑ دھکڑ کے شکار تمام لوگوں کو ملک سے باہر جانے اور دنیا کے کسی اور خطے میں ایک نئی زندگی گزارنے کی اجازت دے دی جائے۔

انھیں باہر جانے دیں!