آپ کی جیب میں ڈالر کا نوٹ ہے؟ ترکی میں آپ گرفتار بھی ہو سکتے ہیں۔

aaaa

15جولائی کی ناکام بغاوت کے تناظر میں اب تک کا سب سے عجیب و غریب الزام لگاتے ہوئے ترک حکام نے سینکڑوں افراد کے زیرحراست لیا ہے یا پھر انھیں ملازمتوں سے اس الزام پر بر طرف کر دیا ہے کہ ان کے پاس ایک ڈالر کا نوٹ موجود تھا۔ ترک حکومت کے مطابق ایک ڈالر کا نوٹ جیب میں ہونے کا مطلب ترک عالم فتح اللہ گولن کا پیروکار ہونا ہے جن پر حکومت بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتی ہے۔

ترک حکام اب تک لوگوں کی جیب سے برامد ہونے والے ایک ڈالر کے نوٹوں کے متعلق مختلف نظریات پیش کرتے رہے ہیں۔ ایک نظریہ کے مطابق بنک نوٹوں کے سیریل نمبر کے شروع کے حروف تحریک میں ان کے عہدے کو ظاہر کرتے ہیں۔

ct-turkey-dollar-bills-seen-as-evidence-of-cou-001

 

مثال کے طور پر حرف F سے مراد ایک اعلیٰ عہدے کا افسر یا پولیس چیف ہونا ہے جبک Jاور C  کم عہدوں کے افسران کی علامت ہیں۔  B کا حرف طلبہ کے لیے جبکہ E اور S گولنسٹ اسکولوں میں تعینات استاذہ اور ماہرین تعلیم کے لیے تھا۔

ترکی کے وزیر انصاف باقر بوزداگ ان حکام میں شامل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایک ڈالر کے نوٹ کا مطلب گولن تحریک کا رکن ہونا ہے۔  انھوں نےحکومت کے حامی اے حبر ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا “اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گولن کی دہشت پسند تنطیم میں ایک ڈالر کا نوٹ اہمیت کا حامل تھا۔ ” new-bitmap-image-4

حال ہی میں ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے بھی دعویٰ کیا کہ ترک حکام کو یقین ہے کہ یہ خاص ایک ڈالر کے نوٹ خفیہ پیغامات کی ترسیل یا اس شخص کے عہدے کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔

ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا کہ “پراسیکیوٹرز نے انھیں بتایا کہ بہت سے لوگوں سے 15 جولائی کی فوجی بغاوت کے بعد ایک ڈالر کے نوٹ کی برامدگی پر پوچھ گچھ کی گئی ہے جن کا تعلق گولن تحریک سے ہے۔  انھیں بتایا جاتا کہ فتح اللہ گولن نے خود یہ بنک نوٹ عطا کیے ہیں۔ “