انقرہ میں ایک شخص کے مبینہ اغوا کے بعد، فلسفے کے ایک استاد کو ان کی اہلیہ کے بیان کے مطابق یکم اپریل کو غائب کر دیا گیا ہے۔

41 سالہ استاد یکم اپریل کو پراسرار طور پر غائب ہو گئے۔ ان کی اہلیہ فاطمہ اسان نے ٹویٹر پر فریاد کی ہے کہ گزشتہ آٹھ دنوں سے اس نے اوندر کے متعلق کچھ نہیں سناہے۔

“میں اپنے تین بچوں کے ساتھ تباہ و برباد ہو کر رہ گئی ہوں”, فاطمہ نے ایک نئے کھولے جانے والے ٹویٹر اکاونٹ پر لکھا اور سیاستدانوں اور صحافیوں سے مدد طلب کی ہے۔

اوندر کی گمشدگی، اگر درست ہے تو ایک ہفتے میں ہونے والا ویسا ہی واقعہ ہے جہاں ترگت اوزال یونیورسٹی کا سابقہ ملازم ترگت چاپان انقرہ سے 31مارچ کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔

ترگت کی اہلیہ الکو نے ٹوئٹر پر لکھا کہ اس کے شوہر کے ایک دوست یکم اپریل کو اس کے گھر آئے اور اس کے اغوا کے متعلق بتایا۔

اگرچہ مبینہ اغوا کی وجہ ابھی معلوم نہیں تاہم Turkey Purge کو پہلے ملنےوالی معلومات اوراخبارات میں  گولن کے پیروکاروں اور ترک حکومت کے ناقدین کے پر اسرار اغوا کے واقعات کے متعلق باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔

حکومت 15 جولائی کی فوجی بغاوت کا الزام گولن تحریک پر لگاتی ہے اور اب تک تحریک سے تعلق کے شبے میں 113000 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ 47000 افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ اس دوران سینکڑوں اسکول اور ہاسٹل ایسے ہی الزامات پر بند کر دیے گئے ہیں۔ انھیں میں سے ایک ترگت اوزال یونیورسٹی بھی ہے۔ فاطمہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کے شوہر کا تعلق تحریک سے ہے یا نہیں

Turkey Purge کو ایک خاندان کی جانب سے ملنے والی معلومات کے مطابق ترکی کی خفیہ ایجنسی کے افسران نے ملایشیا میں دو افراد، ایک استاد اور ایک تاجر کو گزشتہ برس اکتوبر کے وسط میں اٹھا لیا۔

اس دوران ترکی کے بایئں بازو کے اخبار Evrensel نے دس جنوری کو رپورٹ کیا کہ ایک قاری اور تقسیم کنندہ زینب تنجل کو نامعلوم افراد نے حکومت کے خلاف مزاحمت کا الزام لگاتے ہوئے اٹھا لیا اور زدوکوب کیا۔