ایک ترک استاد محمد فرقان شوکمین جو برما میں گولن تحریک کے پیروکاروں کی جانب سے قائم دو اسکولوں میں خدمات سر انجام دے رہے تھے انھیں سوشل میڈیا پر مدد کی اپیلوں کے باوجود زبر دستی ترکی بے دخل کر دیا گیا۔

اسے ہفتے کے دن استنبول کے اتا ترک ہوائی اڈے سے حراست میں لیا گیا اور تحقیقات کے لیے پولیس اسٹیشن بھیج دیا گیا۔

شوکمین نے برما کی پولیس کی جانب سے جمعہ کو رنگون ائر پورٹ پر ترک حکام کے حوالے کیے جانے سے چند لمحے قبل سوشل میدیا پر بھیجی جانے والی ویڈیو ریکارڈنگ میں ’’دنیا سے مدد کی اپیل ‘‘ کی۔

سوشل میڈیا پر بھیجی جانے والی ایک پرانی ویڈیو کے مطابق شوکمین اس کی اہلیہ عایشہ اور بیٹی سبیل کو مقامی امیگریشن حکام نے یہ کہہ کر حراست میں لے لیا کہ ترک حکومت نے ان کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے ہیں۔

ترکی کی ریاستی خبر ایجنسی انادولو کے مطابق شوکمین کو اس سے قبل چوبیس مئی کو زبر دستی بنکاک تھائی لینڈ ملک بدر کیا گیا تھا۔

 

’’ وہ مجھے بنکاک لے گئے۔ میں اب ائر پورٹ پر ہوں۔ اگر مجھے ترکی بھیجا گیا تو غالب امکان یہی ہے کہ مجھے جیل میں ڈال دیا جائے اور اسی طرح تشدد کا نشانہ بنیا جائے گا جیسا موجودہ حکومت کے تحت بہت سے دیگر افراد کو بنایا جا رہا ہے۔ میں بین الاقوامی تحفظ کی اپیل کرتا ہوں۔‘‘ شوکمین نے ایک اور ویڈیو پیغام میں کہا۔

اس کی اپیلوں کے باوجود اسے ترک پولیس کی حراست میں ترکش ائر لائن کی پرواز میں استنبول لے جایا گیا۔

شوکمین برما میں قائم ہورائزن انٹنیشنل اسکول میں اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ میڈیٹرینین انٹرنیشنل ایجوکیشن سروسز لمیٹڈ میں شراکت دار بھی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے برما اور تھائی لینڈ سے زبردستی بے دخلی کی مذمت کی ہے۔

26 مئی کو اپنے ایک بیان میں ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ایشیا ڈائریکٹر فل رابٹسن نے کہا: ’’برما اور تھائی لینڈ کے پاس موقع تھا کہ وہ شوکمن کو مقامی #UNHCR سے رابطہ کرنے دیتے تاکہ ان کے ترکی جانے کی صورت میں گرفتاری اور تشدد کے شبہات کا جائزہ لیا جا سکتا۔ ایسا کرنا حقوق انسانی کا حترام ہوتا مگر دونوں حکومتوں نے بظاہر اس بات پر دھیان نہیں دیا کہ ترکی اپنے شہریوں کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہے خواہ وہ لوگ قانونی طور پر دوسرے ممالک میں مقیم ہی کیوں نہ ہوں۔

’’ رنگون اور بنکاک کے سرکاری حکام نے شرمناک طور پر ترکی کی اپنے ہی شہریوں کےخلاف انسانی حقوق کی مخالف مہم میں ایک لونڈی کا کردار ادا کیا جس کے تحت شہریوں کے پاسپورٹ ضبط کر کے انھیں تقدیر کے حوالے کیا جا رہا ہے جہاں ان پر ممکنہ تشدد، مقدمے سے قبل طویل حراست، اور ان عدالتوں کے سامنے نام نہاد مقدمات کے نتیجے میں سماعت شامل ہیں جو نہ تو شفاف اور نہ ہی آزاد ہیں۔

نتیجے کے طور پر اس برس فرقان شوکمین ماہ رمضان کا آغاز جیل میں کر رہا ہے جہاں وہ اپنی اہلیہ اور شیر خوار بیٹی سے دور ہے اور جسے ایک غیر یقینی لیکن خوفناک مستقبل درپیش ہے۔

ترکی 15 جولائی کو ایک فوجی بغاوت سے بچ گیا جس میں 240 سے زائد افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ اس بغاوت کے بعد حکومت اور صدر طیب اردگان نے اس کوشش کا الزام گولن تحریک پر لگا دیا۔

صدر اردگان نے غیر ملکی حکومتوں سے اپنے ممالک میں گولن کے حامیوں کو سزا دینے پر زور ڈالا۔  اب تک صرف چند ہی ممالک نے اس درخواست پر اقدامات کیے ہیں جن میں سعودی عرب، ملایشیا اور جارجیا شامل ہیں۔

ترک حکومت پہلے ہی بیرون ملک کریک ڈاون شروع کرنے سے قبل 120,000 سے زائد افراد کو تحریک سے مبینہ یا حقیقی تعلق کی بنیاد پر حراست میں لے چکی ہے،

اس دوران ترکی کے مشہور NBA سٹار انس کانتر کی 20 مئی کی ایک ٹوئٹ کے مطابق انھیں ترک حکومت کی درخواست پر رومانیہ میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔

تحریک کے بےباک حامی کانتر نے میڈیا کو بتایا کہ ترک حکومت نے انھیں انڈونیشیا میں پکڑنے کی کوشش بھی کی تھی۔