ترک حکومت کی پکڑ دھکڑ سے محفوظ رہنے کے لیے قربانیاں کافی نہیں۔ اس کی ایک مثال سابقہ پولیس افسر ایم ای چے ہیں جو کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں ایک آنکھ اور کان سے محروم ہو چکے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ انھیں ملازمت سے بر طرفی کے بعد آپریشن کے لیے ریاست کے فنڈز سے قائم سوشل سیکیرٹی فوائد استعمال کرنے سے محروم کر دیا گیا ہے۔

ایم سی چے ان 134200 لوگوں میں سے ہیں جنھیں بغاوت کی کوشش کے بعد اداروں سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔

بر طرفی کے شکار چند افراد کی جانب سے قائم کردہ ایک محدود فیس بک گروپ پر ان کی پوسٹ سے پتا چلتا ہے کہ بعد از بغاوت ہونے والے اس آپریشن کی کوئی حدود نہیں جب ان کا شکار ریاست کے مبینہ دشمن ہوں۔

ایم ای چے نے کہا: “پیارے دوستو! میں 27 جولائی  2016 کو PKK کی جانب سے ایک چیک پوسٹ پر بم حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوا۔ مجھے یکم جنوری 2017 کو بر طرف کر دیا گیا۔ زخموں کے باعث میں اپنے  بایئں کان اور دایئں آنکھ سے محروم ہو گیا۔ اب بھی میرے جسم پر جلنے کے زخموں کے نشانات موجود ہیں۔ میرے سات آپریشن ہو چکے ہیں اور اب بھی ایک آپریشن کی ضرورت ہے مگر میری سوشل سیکیورٹی ختم ہو گئی اور پولیس کے محکمے نے میری بے دخلی کے بعد میرے اخراجات اٹھانے سے انکار کر دیا ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں سابقہ باوردی افراد کو حاصل فوائد سے مستفیظ ہو سکتا ہوں؟ میں اپنا علاج کیسے کراوں ؟