اوز خاندان کے  ذہنی طور پر پسماندہ  دوبچے ہیں جو اب تنہا رہ گئے ہیں کیونکہ ان کے والدین کو 15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کے بعد گولن تحریک کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تحریک کے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ نہ ہونے کے باوجود بغاوت کی منصوبہ سازی کا الزام لگایا جا رہا ہے جبکہ حکومت پہلے ہی 94000 افراد کو حراست میں لے چکی اور 47000افراد کو تحریک سے تعلق کے الزام میں جیل بھیجا جا چکا ہے۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں قید کیے جانے والوں میں اساتذہ، ڈاکٹرز، وکیل، فارماسسٹس، طلبہ، پلمبرز، فٹبال کے کھلاڑی، فنکار اورحتیٰ کہ کامیڈین بھی شامل ہیں۔

ذیل میں کیسری شہر کی ایک خاتون کا خط ہے جو پہلے سے پریشانی کی شکار ایک فیملی کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کر رہی ہیں جسے والدین کو گرفتار کرنے کے بعد مختلف شہروں میں قید کر کے تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس دوران ان کے بچوں کو ان اکے آبائی شہر کیسری میں بے یار و مدد گار چھوڑ دیا گیا ہے۔

“میں یہ خط ایک انسانی فریضے کے طور پراور ایک ماں کی حیثیت سے لکھ رہی ہوں۔ میرے مخاطب تمام ذمہ داران اور تمام والدین ہیں۔۔۔۔ کیونکہ آج سے کسی کو فوری طور پر اس خاندان کی دیکھ بھال کرنی ہو گی ۔۔۔ جب مجھے پتہ چلا کہ ہمارے پڑوسیوں کے ساتھ کیا ہوا ہے، جنھیں میں کئی برسوں سے جانتی ہوں تو میرا خون  رگوں میں منجمد ہو گیا۔ میں کئی دنوں تک نارمل نہ ہو سکی۔ میں جہاں نظر دوڑاتی مجھے میری پڑوسن امل نظر آتی۔ امل ایک ٹیچر تھی اور اس کا شوہر ایک کونسلر تھا ۔۔۔۔ ان کے تین بچے تھے ۔۔۔۔ سترہ سالہ فاتح، تیرہ سالہ مجتبیٰ اور چار سالہ سمیع۔ امل مجھے بتایا کرتی کہ فاتح کی پیدائش پر وہ کس قدر خوش تھی۔ ماں بننے کی کسے خوشی نہ ہوتی؟ آپ ان لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں جنھیں ماں بننے کا تجربہ ہوا ہے۔ وہ آپ کو گھنٹوں مختلف باتیں بتایئں گے۔ دوسری ماوں کی طرح امل بھی اپنے پیارے بیٹے فاتح سے بہت قریب تھی ۔۔۔۔ امل اور میں مختف اوقات میں بیٹھ کر اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خواب دیکھا کرتے تھے۔ جب فاتح تین سال کا ہوا تو امل کے خواب چکنا چور ہو گئے۔ کیونکہ فاتح اس کے دوسرے بچوں سے مختلف تھا۔

ننھا فاتح آٹزم (ذہنی بیماری) کا شکار ہو چکا تھا۔ 

عام طور پر لوگ گھر واپس جا کر آرام کرتے ہیں مگر امل کے لیے صورتحال بہت مختلف تھی۔  اسکول اور گھر دونوں جگہ امل تھکن کا شکار رہتی تھی۔ وہ راتوں کو بے خوابی کا شکار رہتی۔ میں کوشش کے باوجود امل کی کوئی مدد نہ کر پاتی۔

اسے ایک اور مصیبت کا سامنا اس وقت کرنا پڑا جب وہ دوسرے بچے کے لیےسات ماہ کی حاملہ تھی۔ ڈاکٹروں نے اسے بتا دیا کہ اشاید اس کا دوسرا بچہ بھی اسی بیماری کا شکار ہو۔

امل ذہنی طور پر مزید دباو کا شکار تھی لیکن یہ ذہنی کیفیت زیادہ عرصہ نہ رہی۔ امل اس قدر صابر تھی کہ خدا کی جانب سے آنے والی ہر چیز پر راضی رہتی تھی اور وہ مزید محنت سے کام میں لگ جاتی۔ وہ فاتح کے علاج کے لیے ہر طرح کے علاج، اسکول، اور ڈاکٹروں کی جانب دیکھتے رہے اور اس سب کے لیے انھیں بڑی رقم کی ضرورت تھی ۔۔۔ وہ اپنے بچوں کے علاج کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہے تھے۔

اس نے اپنی زندگی اپنے بچوں کے لیے وقف کر دی تھی ۔۔۔۔ برسوں بعد امل نے تیسرے بچے کو جنم دیا؛ سمیع اب چار سال کا ہو چکا ہے۔

ایک ماں اور باپ کے طور پر وہ غیر معمولی کوشش، اتحاد و اتفاق، اور آنسوٗوں کے ساتھ اپنے تین بچوں کا خیال رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ فاتح اس دوران سترہ برس کا ہو چکا تھا۔ وہ صرف اپنی دواوں اور تعلیم کے ساتھ ذندگی گزار رہا تھا۔ وہ ایک ذہین طالب علم تھا۔ کبھی کبھار تو آپ کو یوں لگتا جیسے آپ کسی سائنسدان سے بات کر رہے ہوں۔

امل کو دوایاں ختم ہونے سے ایک ماہ قبل ہی نئی دواوں کاآرڈر دینا پڑتا تھا کیونکہ کبھی کبھار فاتح اپنے گھر والوں، اپنے ارد گرد کے لوگوں یا اپنے بھایئوں کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔  میں کبھی وہ منظر بھلا نہیں سکتی ۔۔۔۔۔

میں نے ایک مرتبہ امل کی اپنی والدہ سے گفتگو سنی۔ اس منظر نے میرا دل توڑ دیا ۔۔۔

نانی اماں اپنے نواسے کی جانب دیکھتے ہوئے اس کی تعریف کر رہی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں : “امل! یہ بچہ بہت پیارا ہے۔ کسے معلوم کہ کبھی اس کی کسی پیاری سی لڑکی سے شادی ہو ۔۔۔۔”

“امی فاتح ساری عمر ہمارے ساتھ ہی رہے گا۔ آپ تو اس صورتحال سے آگاہ ہیں۔ ” امل نے کہا۔ نانی اماں نے اپنے نواسے کے لیے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا, ”  میری بیٹی تم ایسی بات کیوں کر رہی ہو؟ فاتح تو بہت سمارٹ لڑکا ہے۔ شاید وہ کسی دن کسی نہ کسی سے شادی کرے۔ ” امل: “امی فاتح نہ شادی کر سکتا ہے اور نہ ہی فیملی شروع کر سکتا ہے۔ـ اس کے انتقال تک ہم ہی اس کی بیوی، ماں اور ساتھی ہیں۔” اس وقت اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو پتھر دل کو بھی موم کر دینے کے لیے کافی تھے۔

اس قسم کی تکلیف کے باوجود امل کا ایسا رویہ مجھ پر کچھ اور ہی انداز میں اثر انداز ہو رہا تھا۔ ۔۔

ماں اور باپ زیر حراست

آپ دیکھیں کہ ایسے صاف دل کی مالک، وہ کہ جو زنگی میں میرے لیے ایک اکسیر کی مانند تھی، اسے اور اس  کے شوہر کو ان کے تین بچوں سےعلیحدہ کر دیا گیا تھا۔

تقریباََ 80 سالہ نانا اور نانی کو ایسے وقت میں بچوں کو سنبھالنا پڑا جب انھیں خود دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ وہ کسی ظرح بچوں کو لے تو گئے مگر میں آپ سے پوچھتی ہوں؛ یہ عمر رسیدہ افراد کتنے دن ان بچوں کا خیال رکھ سکیں گے۔  وہ ان بچوں کی کب تک مدد کر سکیں گے؟

یہ بزرگ افراد ان بچوں کی تعلیمی اور خصوصی ضروریات کا خیال کس حد تک رکھ پائیں گے؟ کس قسم کا ضمیر ان بچوں کو ان کو والدین سے جدا کرنے کی صورتحال قبول کر سکتا ہے؟ مزید یہ کہ ان کی ماں منیسا کی جیل میں ہے ۔۔۔۔۔

ان کے والد نو شہر میں ۔۔۔۔۔ بچے اپنے بوڑھے نانا نانی کے ساتھ کیسری میں ہیں۔۔۔۔ یہ بچے آٹھ مہینے سے اپنی والدہ کو دیکھ نہیں پائے۔

اگرچہ وہ وقفے وقفے سے اپنے والد کو دیکھ سکتے ہیں لیکن جب بھیباپ اپنے بچوں کی تکلیف دہ صورتحال کو دیکھتا ہے تو غم کا شکار ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں استعمال کی جانے والی دواوں کی وجہ سے وہ گھنٹوں سویا رہتا ہے۔ اور پھر وہ اپنے بچوں کا نام لیتے ہوئے جاگ جاتا ہے۔ سمیع کی عمر اگرچہ صرف چار برس ہے مگر اس کے کندھوں پر پوری دنیا کا بوجھ آ پڑا ہے۔ وہ خود تو چھوٹا ہے مگر اس کی روح پہاڑ کی مانند بلند ہے۔ سمیع ہر رات اپنے والد کے جوتوں کو ساتھ لے کر سوتا ہے اور دروازے سے آنے والی ہر عورت کو دیکھ کر بے اختیار پکار اٹھتا ہے ” امی”.

نانی کو دل کا دورہ پڑا

اپنے بڑھاپے کے باوجود بچوں کا خیال رکھتے ہوئے نانی اماں کو دل کا دورہ پڑا۔ میں پوچھتی ہوں: یہ سب پڑھنے کے بعد بھی کیا آپ خاموش رہیں گے؟

بچوں کی صحت کی آفیشل رپورٹ ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔