ترک جیلوں میں تشدد کی نئی لہر کی نشاندہی کرتے ہوئے انطالیہ سے گرفتار ایک قیدی نے اپنے خط میں کہا ہے کے اسے اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ کچھ وقت کے لیے بے ہوش ہو گیا اور اسے ریپ کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

آکتف حبرآن لائن نیوز پورٹل کے مطابق پانچ جنوری کو معمول کے پولیس کریک ڈاون کے بعد گرفتار ہونے والے زیڈ جی نے گرفتاری ظاہر کیے جانے سے قبل 12 دن  انطالیہ پولیس اسٹیشن میں حراست میں گزارے۔ ان پر ایک دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے کا الزام ہے جو اس وقت ترکی میں حکومت کی جانب سے لگایا جانے والا سب سے عام الزام ہے جس میں 15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کے بعد 97000 افراد کو ملوث کیا گیا ہے۔

“میں جمعرات کے دن اپنے پی ایچ ڈی کے طالب علم دوست اور سپر وائزر کے ہمراہ اک دینیز یونیورسٹی کے قریب یاقوت بازار میں ایک ریسٹورنٹ پر بیٹھا ہوا تھا۔ ریسٹورنٹ سے نکلنے کے بعد ہمیں پولیس نے روکا۔ انھوں نے ہمیں کچھ بھی بتائے بغیر پولیس کی گاڑی میں ٹھونس دیا”, زیڈ جی نے بتایا۔ اس نے مزید بتایا کہ اسے انطالیہ پولیس تھانے کے اینٹی سمگلنگ اینڈ آرگنائزڈ کرائم شعبے میں پولیس والوں نے بری طرح سے مارا پیٹا۔

اس نے بتایا,”میں حیران و پریشان فرش پر لیٹا ہوا تھا کہ میرے ساتھ یہ کیا ہوا۔۔۔۔۔ اس دوران وہ مجھے گالیاں دے رہے تھے: کتے کے بچےـ

اس خط کی اشاعت ہاتھ سے لکھی ایک تحریر کی ایک تصویر کی صورت میں کی گئی ہے جس کے متعلق گمان یہ ہے کہ یہ چار اپریل کو اس نے خود لکھا تھا۔

زیڈ جی نے کہا کہ پولیس افسران اسے اس دہشت گرد گروہ کے ڈھانچے کے متعلق بتانے کے لیے کہہ رہے تھے جس میں اس کی شمولیت کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

“پھر انھوں نے مجھے کتے کی طرح پوزیشن میں بٹھا دیا ۔۔۔ ان میں سے رفعت نامی شخص نے ایک چھڑی کو اپنی انگلیوں اور انگوٹھے کے درمیان سرکاتے ہوئے مجھے دھمکی دی:  میں یہ چھڑی تمھاری پشت میں 30 دن تک اندر باہر کرتا رہوں گا اور تمھیں انطالیہ کے 100th Boulevard میں ہم جنس پرستوں کے قریب چھوڑ دوں گا۔ ”

رفعت نے مبینہ طور پر یہ بھی کہا : “میں تمھاری بیوی کے ساتھ بھی یہی کچھ کروں گا.”

زیڈ جی نے کہا کہ پولیس افسران ہر وقت ائر کنڈیشنر چلاتے رہتے تاکہ کوٹھڑی میں بے آرامی ہو اور اس کے نتیجے میں وہ بہت جلد میں بیمار ہو گیا۔

جیل میں موجود مجرم قیدیوں کو مجبور کیا جاتا کہ وہ دہشت گردی کے الزام میں آنے والوں کو ڈراتے رہیں، زیڈ جی نے بتایا۔

گذشتہ برس 27 اکتوبر کو ہیومن رائٹس واچ نے 43 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ “A Blank Check: Turkey’s Post-Coup Suspension of Safeguards Against Torture,” کے عنوان سے شائع کی جس میں ترکی کی بعد از بغاوت گرفتاریوں کے شکار قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے 13 واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ مبینہ بد سلوکی کے واقعات میں مشکل پوزیشن میں بٹھا کر رکھنے سے لے کر نیند سے محروم رکھنا، شدید تشدد کرنا، جنسی بد سلوکی اور ریپ کی دھمکیاں شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی ایٹر نیشنل نے 24 جولائی کو یہ بھی رپورٹ کیا کہ اسے قابل وثوق ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ ترکی میں 15 جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد سے زیر حراست افراد کو مار پیٹ اور تشدد بشمول ریپ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔