ترکی کی سپریم کونسل آف ججز اینڈ پراسیکیوٹرز (HSYK) نے 107 مزید ججزاور پراسیکیوٹرز کو گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔جس پر حکومت پندرہ جولائی کی بغاوت کی کوشش کا الزام لگاتی ہے۔

ججوں اور پراسیکیوٹرز کی بر طرفی کا فیصلہ HSYK کی جمعہ کے دن ہونے والی جنرل اسمبلی میں کیا گیا۔

HSYK کے ڈپٹی چیرمین مہمت یلماز نے ترک میڈیا کو بتایا کہ بر طرفی کے ان حالیہ اقدامات کے بعد ان کی وہ فہرست مکمل ہو گئی ہے جس پر وہ کام کر رہے تھے۔

” یہ آخری اقدام ہے۔ اب ہماری فہرست مکمل ہو گئی ہے۔ اب بر طرف کرنے کے لیے کوئی باقی نہیں بچا۔ اگر مستقبل میں کوئی اور شکایات آئیں تو ہم ان پر کام کریں گے” یلماز نے کہا۔

ترکی کے وزیر انصاف باقر بوزداغ نے دس نومبر کو ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ HSYK  نے 3456 ججوں اور پراسیکیوٹرز کو بغاوت کی کوشش کے بعد سے گولن تعلقات کے الزام میں بر طرف کیا ہے۔