ترک حکمران جماعت AKP نے صدر رجب طیب اردگان کی زیر صدارت ہونے والے نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں ملک بھر میں  ایمرجنسی کے نفاذ میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی ہے۔

صدارتی محل میں ہونے والے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایمرجنسی میں توسیع کر دی جائے اور اسے منظوری کے لیے پارلیمان میں بھیجا جائے۔

پہلی مرتبہ 20 جولائی کو تین ماہ کے لیے لگائی جانے والی ایمرجنسی میں اکتوبر اور جنوری میں توسیع کی جا چکی ہے اور اس کا خاتمہ 19 اپریل کو ہونے والا تھا۔

ترکی 15 جولائی کو فوجی بغاوت سے بچا ہے جس میں 240 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔  بغاوت کی اس ناکام کوشش کے فوراََ بعد AKP کی حکومت نے صدر اردگان کے ہمراہ اس کا الزام گولن تحریک پر لگا دیا جو ایک سول سوسائٹی تحریک ہے جو  امریکہ میں مقیم ترک سکالر فتح اللہ گولن  کے نظریات سے متاثر ہے۔

تحریک کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتی ہے۔

حکومت نے ایمرجنسی کے دوران سینکڑوں کمپنیوں کو قبضے میں لے لیا، کاروباری حضرات کے اثاثے ضبط کر لیے اور تحریک سے منسلک ادارے بند کر دیے۔