ایک ترک خاندان کی جانب سے سوشل میدیا پر ڈالی جانے والی ایک ویڈیو کے مطابق انھیں جمعرات کے دن یوکرین کے حکام نے حراست میں لیا ور تین دن تک کیو بوریسپل ائر پورٹ پر ایک کمرے میں بند رکھا تاکہ انھیں ترکی ڈی پورٹ کیا جاسکے۔

ھفتے کے دن ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو میں والد علی یلدز نے کہا کہ وہ لوگ بنکاک سے آ رہے تھے اور کاسا بلانکا کے لیے اگلی پرواز کے انتظار میں کیو ائر پورٹ پر رکے تھے۔

’’ میرا نام علی یلدز ہے اور میں تین دن سے اس کمرے میں ہوں۔ میں بنکاک سے ایک ٹورسٹ کی حیچیت سے کیو آیا تھا۔ میں ایک ترک شہری ہوں۔ یوکرین ترک شہریوں سے ویزہ کا مطالبہ نہیں کرتا۔ ہم اس وقت کیو ائر پورٹ پر ہوں۔ دو سپاہی باہر موجود ہیں۔ کل (جمعہ کو) میری کیو سے کاسابلانکا کے لیے پرواز ہے۔ یہ مجھے پرواز کی اجازت نہیں دے رہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم تمھیں بنکاک بھیج دیں گے۔ تاہم آج دو سپاہی آے اور بتایا کہ ہمیں پرواز کی اجازت نہیں۔  میں نے ان سے پوچھا ’’میں کیوں پرواز نہیں کر سکتا؟‘‘ انھوں نے کہا: اب تم صرف استنبول، ترکی پرواز کر سکتے ہو۔ ‘‘  یلدز نے کہا۔

اس کے بعد ایک ویڈیو ریکارڈنگ میں یلدز نے کہا کہ وہ نہیں چاہتا کہ یوکرینی حکام اس کے خاندان کو ترکی بھیج دیں۔

’’مجھے نہیں معلوم کہ اس کا سبب کیا ہے اور یہ سب کیوں ہوا۔ برائے مہربانی میری مدد کریں!‘‘ یلدز نے کہا۔

یلدز خاندان کے بارے میں خیا ل کیا جاتا ہے کہ اس کا تعلق گولن تحریک سے ہے جس پر ترک حکومت  15جولائی 2016 کی بغاوت کی کوشش کا الزام لگاتی ہے۔

ترکی 15 جولائی کو ایک فوجی بغاوت سے بچ گیا جس میں 240 سے زائد افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ اس بغاوت کے بعد حکومت اور صدر طیب اردگان نے اس کوشش کا الزام گولن تحریک پر لگا دیا۔

صدر اردگان نے غیر ملکی حکومتوں سے اپنے ممالک میں گولن کے حامیوں کو سزا دینے پر زور ڈالا۔  اب تک صرف چند ہی ممالک نے اس درخواست پر اقدامات کیے ہیں جن میں سعودی عرب، ملایشیا اور جارجیا شامل ہیں۔

ایک حالیہ واقعہ میں برما میں گولن تحریک کے حامیوں کی جانب سے قائم دو اسکولوں میں خدمات سر انجام دینے والے استاد محمد فرقان شوکمین کو سوشل میڈیا پر ان کی اپیلوں کے باوجود ترکی واپس بھجوا دیا گیا۔

اسے استنبول کے اتا ترک ہوائی اڈے پر تحویل میں لیا گیا اور پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔

شوکمین نے رنگون ائر پورٹ پر برما کی پولیس کی جانب سے ترک حکام کے حوالے کیے جانے سے چند لمحے قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں ’’دنیا سے مدد کی اپیل‘‘ کی۔

سوشل میڈیا پر بھیجی جانے والی ایک پرانی ویڈیو کے مطابق شوکمین اس کی اہلیہ عایشہ اور بیٹی سبیل کو مقامی امیگریشن حکام نے یہ کہہ کر حراست میں لے لیا کہ ترک حکومت نے ان کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے ہیں۔

ترکی کی ریاستی خبر ایجنسی انادولو کے مطابق شوکمین کو اس سے قبل چوبیس مئی کو زبر دستی بنکاک تھائی لینڈ ملک بدر کیا گیا تھا۔

mp4=”https://turkeypurge.com/wp-content/uploads/2017/05/VIDEO-_8212-Turkish-family-last-victim-of-Erdoğan_8217s-long-arm-abroad-stranded-at-Kiev-airport-_8211-Stockholm-Center-for-Freedom.mp4″][/video]

.