حال ہی میں شروع ہونے والے ایک ٹوئٹر اکاونٹ میں ٹویٹس کے ایک سلسہ کے زریعے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت کے ہاتھوں بند کر دی جانے والی ترگت اوزال یونیورسٹی کے سابق ملازم ترگت چاپان کو ترک دارالحکومت انقرہ سے اغواکر لیا گیا ہے۔

@CapanAilesi (چاپان فیملی) ٹویٹر اکاونٹ کو انقرہ کے کوچیورن ڈسٹرکٹ کی ایک گھریلو خاتون الکو چاپان چلا رہی ہیں جنھوں نے سوشل میڈیا کا استعمال اپنے شوہر کے مبینہ اغوا کے بعد شروع کیا ہے۔

انھوں نے اپنی پہلی ٹوئٹ آٹھ اپریل کو پوسٹ کرتے ہوئے کہا: “میں چاہتی ہوں کہ آپ میرے شوہر کے اغوا کے خلاف ہماری آواز سنیں۔ برائے مہربانی توجہ دیں  @MTanal@MSTanrikulu @aykuterdogdu۔ ہمارا پورا گھرانا تباہ ہو گیا ہے۔ جن تین افراد کے نام یہاں لکھے گئے ہیں وہ اپوزیشن ریپبلکن پارٹی (CHP)کے صف اول کے ممبران اسمبلی ہیں۔

الکو نے ایک ویڈیو کلپ بھی جاری کیا ہے جس میں وہ تمام کہانی تفصیل سے بیان کرتی ہے اس نے بتایا کہ اس کے شوہر کا ایک دوست یکم اپریل کو آیا جس نے اسے اغوا کے متعلق آگاہ کیا۔ ترگت اوزال یونیورسٹی کے ایک سابق استاد مہمت اوزپنار کے مطابق حکومت کی جانب سے بندش سے قبل ترگت یونیورسٹی میں کلچر، سپورٹس اور آرٹ افیرز کا سربراہ تھا۔

 

ترگت اوزال یونیورسٹی ان سینکڑوں تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے جنھیں 15 جولائی کی فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد بند کر دیا گیا ہے، ان اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے متعلق گولن تحریک سے تعلق کا دعویٰ کیا جاتا ہے جس پر حکومت بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتی ہے۔ اب تک تحریک سے تعلق کے شبے میں 113000 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ 47000 افراد گرفتار کیے گئے ہیں جو تحقیقات اور مقدمہ دونوں کے دوران شفافیت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

اگرچہ مبینہ اغوا کی وجہ ابھی معلوم نہیں تاہم Turkey Purge کو پہلے ملنےوالی معلومات اوراخبارات میں  گولن کے پیروکاروں اور ترک حکومت کے ناقدین کے پر اسرار اغوا کے واقعات کے متعلق باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔

Turkey Purge کو ایک خاندان کی جانب سے ملنے والی معلومات کے مطابق ترکی کی خفیہ ایجنسی کے افسران نے ملایشیا میں دو افراد، ایک استاد اور ایک تاجر کو گزشتہ برس اکتوبر کے وسط میں اٹھا لیا۔

اس دوران ترکی کے بایئں بازو کے اخبار Evrensel نے دس جنوری کو رپورٹ کیا کہ ایک قاری اور تقسیم کنندہ زینب تنجل کو نامعلوم افراد نے حکومت کے خلاف مزاحمت کا الزام لگاتے ہوئے اٹھا لیا۔ ترگت کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ایسے میں فاطمہ اسان نامی ایک اور خاتون نے آٹھ اپریل کو ایک اور ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھا کہ اس کے شوہر  فلسفے کے استاد اوندر اسان یکم اپریل سے غائب ہیں