23 اپریل کو جہاں ترکی ترک پارلیمنٹ اور قومی خود مختاری کی 97 ویں سالگرہ کے ساتھ ساتھ بچوں کا دن منا رہا ہے، کم ازکم 520 بچے یہ دن منانے سے معذور ہیں کیعنکہ وہ اپنی قیدی ماوں کے ہمراہ جیل میں پرورش پا رہے ہیں۔

وزارت انصاف کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق 6000 سے زائد خواتین جیلوں میں بند ہیں جو ترکی میں مجموعی قیدی افراد کا نو فیصد بنتی ہیں۔

ان میں سے کل 2258 مایئں ہیں جن میں سے 520ایسی ہیں جو اپنے نو مولود بچوں سے لے کر چھ برس تک کی عمر کے بچوں کی پرورش جیل میں کرنے پر مجبور ہیں۔ پندرہ جولائی کی بغاوت کی کوشش کے بعد گولن تحریک سے وابستہ افراد کی پکڑ دھکڑ نے کچھ اور تو نہیں کیا البتہ بچوں کے ہمراہ ماوں کے لیے المیوں کو جنم دیا ہے۔

ترکی کی پہلی پارلئیمان ترکش گرینڈ نیشنل اسمبلی کا پہلا اجلاس 1920 میں انقرہ میں جنگ آزادی کے دوران ہوا تھا تاکہ ایک خودمختار، سیکولر اور جدید ترکی کی بنیاد رکھی جا سکے۔

بچے 23اپریل کی تقریبات کا محور اس وقت بنے جب جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتا ترک اور اسمبلی کے پہلے سپیکر نے اس دن کو قوم کے مستقبل یعنی بچوں کے نام کر دیا تھا۔