ترکی میں بغاوت کے بعد ہونے والی پکڑ دھکڑ میں اضافہ

ملازمت سے بر طرف

زیر حراست

گرفتار

اسکول، ہاسٹل اور یونیورسٹیوں کی بندش

ملازمت سے بر طرف اساتذہ

بر طرف جج اور پراسیکیوٹرز

میڈیا اداروں کی بندش

گرفتار صحافی

 

 

فوری طور پر نشر ہونے کے لیے:

ہم ترک جیلوں میں قید لوگوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں۔

     

کوئی زیادتی ہوتے دیکھی؟

یہاں رپورٹ کریں

ترکی میں پکڑ دھکڑ کے دوران انسانی المیے

گوکہان آجک اوغلو

گوکہان آجک اوغلو

ہائی اسکول ٹیچر

ترکی میں ناکام بغاوت کے بعد ہونے والی پکڑ دھکڑ کے سلسلے میں گوکہان کو 23جولائی 2016 کو حراست میں لیا گیا۔ اگرچہ وہ شوگر کے مرض میں مبتلا تھا اسے چھ دن تک دواوٗں سے محروم رکھا گیا۔ 13 دن بعد 5 اگست کو اس کا حراست کے دوران انتقال ہو گیا۔

مصطفیٰ توریر

مصطفیٰ توریر

تاجر

مصطفیٰ ان 45 ہزار لوگوں میں سے ہےجنھیں ناکام بغاوت کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی پکڑ دھکڑ کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا۔ اسے اسکندرون کے قید خانے میں لے جایا گیا۔  مصطفیٰ جو پہلے ہی شوگر کا مریض تھا شدید دباو اور صدمے کے باعث دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔

فرقان ڈی

فرقان ڈی

کینسر کا 12 سالہ مریض

12 سالہ فرقان اس وقت برین کینسر کے ہاتھوں انتقال کر گیا جب ترک بارڈر ایجنٹس نے اس کے اور اس کے والدین کے پاسپورٹس استنبول اتا ترک ایر پورٹ پر ضبط کر لیے اور اس وجہ سے انھیں کیوبا میں اپنے بچے کے کینسر کے علاج کے ارادے کو ترک کرنا پڑا۔

فلیز وائے

فلیز وائے

30 سالہ ماں

30 سالہ خاتون فیلیز جس نے 6 فروری 2017 کو میرسین ہسپتال میں بچے کو جنم دیا، اسے 7 فروری کو گولن تحریک سے تعلق کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا۔

حاجی عیسیٰ سیزیک

حاجی عیسیٰ سیزیک

83 سالہ شہری

83 سالہ حاجی عیسیٰ سیزیک کو مسلح تنطیم کا ممبر ہونے کے الزام کے تحت 3 جنوری 2017 کو گرفتار کیا گیا۔ انہیں ان کے 29 سالہ پوتے سلیمان سیزیک کے ساتھ ایک ہی کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے۔

بلال کوناکجی

بلال کوناکجی

بم ڈسپوزل ماہر

سابقہ بم ڈسپوزل ماہر بلال کوناکجی جو ایک بم ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران اپنا دایاں بازو اور دونوں آنکھیں کھو بیٹھے تھے انھیں 20 دسمر 2016 کو گولن تحریک سے تعلق کے شبے میں حراست میں لے لیا گیا۔

پانچ بچے

پانچ بچے

23 جنوری 2016 کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیٗر کی گئی جس میں پانچ بچوں کو انقرہ کے سنجان کے قید خانے کے سامنے تنہا روتے دکھایا گیا جب ان کی ماں کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ جیل میں اپنے والد سے ملنے آئے تھے۔

یاوز بولیک

یاوز بولیک

زیر حراست پولیس چیف

پولیس سر براہ یاوز بولیک کو اردگان کے خلاف بد عنوانی کے الزامات کی تحقیقات کرنے پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔ وہ کینسر کے شکار ہیں اور طبی سہولیات نہ ملنے پر جلد ہی فالج کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان کی اپیلیں نطر اندازکی جا رہی ہیں۔