حکومت نے سابقہ لیفٹیننٹ کرنل مہمت الکان کے اثاثوں کو ضبط کر لیا ہے۔ یہ وہ افسر ہیں جو اس وقت شہ سرخیوں میں آئے جب انھوں نے ترک فوج میں کیپٹن اپنے مقتول بھائی کی تدفین کے موقع پر حکومت پر کھل کر تنقید کی تھی۔

الکان نے 14 اپریل کو ٹوئٹر پر اپنی تحریر میں کہا کہ 15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کے رد عمل میں کے طور پر انھیں ایمرجنسی قوانین کے تحت حکومتی ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔

“اس موت کا ذمہ دار کون ہے؟ وہ لوگ جنھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ ملک کےکرد مسئلے کا حل موجود ہے۔ اور اب یہ جنگ کر رہے ہیں۔” الکان اپنے مقتول بھائی کے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی جانب سے شرناک کے بیت السباپ ضلع میں حملے کے نتیجے میں قتل کے  چار دن بعد 25 اگست 2015 کو تدفین کے موقع پر چلا چلا کر پوچھ رہے تھے۔

ترک فوج اور پی کے کے نے کئی برس کی جنگ بندی کے بعد جولائی 2015 میں دوبارہ ایک دوسرے پر حملے شروع کر دیے تھے۔

الکان نے کہا کہ یکم ستمبر 2016 کو حکومتی حکمنامے کے تحت بنک میں موجود ان کے اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے نہ صرف ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا ہے بلکہ نئی درخواستیں بھی مسترد کر دی گئی ہیں۔ الکان نے کہا کہ کہ انھیں بطور وکیل انٹرن شپ جاری رکھنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔  یونیرسٹی میں وہ شعبہ قانون سے فارغ التحصیل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہمسائے اور دوست ان کے فون کا جواب نہیں دیتے اور وہ اپنی اہلیہ کی تنخواہ پر گذر بسر کر رہے ہیں۔