روزنامہ جمہوریت کی خبر کے مطابق منگل کے دن مبینہ طور پر گولن تحریک سے تعلقات کے شبے میں بر طرف کیے جانے والے پولیس افسر ایچ ای نے جمعہ کے دن خود کشی کر لی۔

افسر نے خود کو گولی مارنے سے قبل اپنی ٹوئٹ میں لکھا:”میں غدار نہیں، میں نے کبھی اپنے ملک سے غداری نہیں کی”۔

ایچ ای ترکی کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں ملازم تھا اور پولیس کے ان 9103 ممبران میں شامل تھا جنھیں ان کے گولن تحریک کے ساتھ مبینہ تعلق کی وجہ سے ترکی کی پولیس سے معطل کر دیا گیا تھا۔

دو اپریل  کو وزیر داخلہ سلیمان سولو کے ایک بیان کے مطابق پندرہ جولائی کے بعد سے 10732 پولیس افسران کو جیل میں ڈالا جا چکا ہے۔

سوئلو نے کہا کہ گولن تحریک کے خلاف تحقیقات کے دوران 15 جولائی کے بعد سے  113260 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 47155 افراد کو مقدمہ چلانے سے قبل گرفتار رکھا گیا ہے۔