UNHCR کی جانب سے پناہ گزین کے کارڈ کے حاںمل  ترک ماہر تعلیم عصمت اوزچیلک کو جمعرات کے دن ملایشیا میں ان خبروں کے دوران حراست میں لے لیا گیا کہ دیگر دو ترک باشندے جن کے بارے میں اغوا کا شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا درحیققت حکام کے ہاتھوں زیر حراست ہیں۔

ایک صحافی اور عصمت اوزچیلک کے بیٹے سوات اوزچیلک نے بین الاقوامی حقوق کے اداروں ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا:  “آج میرے والد کو ایک بار پھر ملایشیا میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ دہ دیگر ترک باشندے بھی اغوا کیے جا چکے ہیں۔ ان کے پاس UNHCR کی جانب سے پناہ گزین  کی حیثیت کا کارڈ موجود تھا۔ میرے والد اب بھی ملایشیا میں UNHCR کے تحفظ میں ہیں۔  میں حقوق انسانی کے اداروں کی جانب سے مدد کا انتظار کر رہا ہوں۔ ملایشیا کے حکام کی جانب سے میرے والد کے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔”

عصمت اوزچیلک کو ابتدائی طور پر 13 دسمبر 2016 کو ترک حکام کی مبینہ درخواست پر حراست میں لے کر قید کیا تھا۔

ملایشیا کے قانون نافز کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے 59 سالہ ماہر تعلیم عصمت اوزچیلک کے گھر پر اس بنیاد پر چھاپہ مارا کہ ترکی نے ان کا پاسپورٹ پندرہ جولائی کی بغاوت کی کوشش کے الزام میں منسوخ کر دیا ہے۔

اوزچیلک کے بیٹے نے ترکی پرج کو ایک ای میل میں بتایا کہ آنے والے اہلکار سادہ لباس میں تھے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں حکام کی جانب سے اوزچیلک کو ترکی ملک بدر کرنے کا حکم ملا ہے۔

جب ہم نے مزاحمت کی تو ملایشیا کی پولیس نے مداخلت کی اور میرے والد کو کار سرکار میں مداخلت کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ میرے والد کو سنگائی بلوح جیل میں بھیج دیا گیا۔  ان کے ہمراہ میرے بھائی سہیل اوزچیلک ، ایک دیگر ترک باشندے ایردیم ایروغلو اور دو ملایشیائی باشندوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ تاہم بعد میں انھیں رہا کر دیا گیا اور وہ اب مقدمے کا انتظار کر رہے ہیں۔ امیگریشن حکام نے میرے والد کا ویزہ 14 دسمر کو منسوخ کر دیا تھا اور اس وجہ سے ان کی رہائی ممکن نہ ہو سکی۔ وہ جیل میں انتہائی نا مساعد حالات میں ہیں۔ وہ 150 دیگر افراد کے ساتھ ایک ایسی جیل میں ہیں جس کی گنجائش صرف 50 افراد کی ہے۔ اگر ہم ان کے ویزے میں توسیع نہ کرا سکے تو انھیں وہاں کم از کم ایک سال تک رہنا ہو گا۔ وہ دل کے مرض کا شکار ہیں اور شوگر کے مریض بھی ہیں۔

اوزچیلک کے وکلا اب ان کے ویزہ کی تجدید کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انھیں ایک ایسے جرم میں قید میں رہنے سے بچایا جا سکے جو ابھی ثابت بھی نہیں ہوا۔ ان کے وکیل فیض الفیض حسنی نے بتایا کہ مجسٹریٹ نے ان کی ضمانت قبول کرنے سے اس لیے انکار کر دیا کہ ملایشیا کے امیگریشن حکام نے تیرہ دسمر 2016 کو ان کی گرفتاری کے صرف ایک دن بعد ان کا ویزہ منسوخ کر دیا تھا۔

عصمت کے لیے ڈی جی امیگریشن سے یہ جاننا ضروری ہے کہ امیگریشن حکام نے کیوں ان کا ویزہ منسوخ کیا ۔ اگر یہ ترک سفارت خانے کی درخواست پر ہوا تو کیوں اور کن بنیادوں پر۔

“اگر ہم درخواست کریں تو مجسٹریٹ ہمیں کچھ دنوں کے لیے ان کا پاسپورٹ لے کر دے سکتے ہیں تاکہ اس کی امیگریشن سے تجدید کرائی جا سکے۔ مجسٹریٹ انھیں صرف ان کے ویزے کی تجدید کے بعد ہی ضمانت ر رہا کر سکتے ہیں۔ ” وکیل نے اس معاملے پر عدالت کی رائے کے متعلق بتاتے ہوئے کہا۔

انھوں نے مزید کہا کہ “اس دوران عصمت کی حالت جیل میں علاج کے بغیر مزید بگڑ سکتی ہے۔”

ترکی پندرہ جولائی کو بغاوت سے بچ گیا تھا اور کوشش کے دوران 240افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ اس کوشش کے بعد ترک حکومت اور صدر رجب طیب اردگان نے اس کی ذمہ داری کا الزام گولن تحریک پر لگایا تھا۔

تحریک کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کرتی ہے۔

اس کے باوجود ترک حکومت نے حکومتی اداروں سے تحریک کے ہمدردوں کا صفایا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پرآپریشن شروع کر دیا۔ اس کے اہم افراد کی بے عزتی اور انھیں زیر حراست رکھنا شروع کر دیا۔