بغاوت کے الزام میں کچھ عرصے سے گرفتار بریگیڈیر نجات اتلا دیمرہان کے بچوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

میرسین کی ایک عدالت نے جمعہ کے دن دیمرہان کے یونیورسٹی میں زیر تعلیم دو بچوں ٹی ڈی اور این آر ڈی کو گولن تحریک کے خلاف تحقیقات کے سلسے میں گرفتار کرنے کا حکم دیا جس پر حکومت 15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتی ہے۔

دیمرہان اور 28 دیگر افراد کے خلاف تین مرتبہ مسلسل عمر قید  کی سزا کے لیے مقدمہ تیار کیا گیا ہے۔ بریگیڈیر کے بچوں کو بائی لاک موبائل اپلیکیشن استعمال کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

ترک انتظامیہ کے مطابق بائی لاک تحریک کے پیروکاروں کے درمیان رابطے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں سول ملازمین، پولیس افسران اور کاروباری حضرات کو گزشتہ برس جولائی میں بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد بائی لاک استعمال کرنے کی وجہ سے یا تو ملازمت سے بے دخل کر دیا گیا ہے یا گرفتار کر لیا گیا ہے۔