ایمنسٹی انٹنیشنل نے فوری ایکشن کی ایک مہم شروع کی ہے جس میں عوام سے  کہا گیا ہے کہ وہ ملایشین حکام سے ان تین ترک باشندوں کو ملک بدر نہ کرنے کی اپیل کریں جنھیں حال ہی میں حراست میں لیا گیا ہے۔

یتن ترک باشندوں کوملایشیا میں انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ بھی خطرات ہیں کہ اگر انھیں ترکی بھیجا گیا تو وہاں ان افراد پر تشدد کیا جائے یا ان سے بدسلوکی کی جائے، گیر شفاف مقدمہ چلایا جائے یا دیگر سنگین نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جایئں۔ ان افراد کو فی الوقت کوالالمپور میں باکل امان میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹرز میں رکھا گیا ہے۔

ایپوہ میں انٹرنیشنل اسکول کے پرنسپل ترگائے کارامان اور احسان اسلان نامی ایک تاجر کو کوالامپور میں دو مئی کو نا معلوم افراد نے حراست میں لے لیا تھا۔ انسپکٹر جنرل پولیس کے مبینہ بیان کے مطابق ان دونوں افراد کو ملایشیا کے تحفط کے خلاف سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ چار مئی کو ملایشیا میں مقیم یونیورسٹی ڈائریکٹر عصمت اوز چیلک کو بھی اسی نوعیت کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس سے قبل گزشتہ برس دو دیگر ترک باشندوں کو ملایشیا میں حرست میں لینے کے بعد اگلے ہی دن ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ دونوں افراد کو ترکی پہنچتے ہی حرست میں لے لیا گیا اور بغیر کسی مقدمے کے جیل میں ڈال دیا گیا۔

ان پانچوں افراد کی مشترکہ بات ان کی گولن تحریک سے وابستگی ہےجس پر حکومت15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کا الزام لگاتی ہے اور جس کے ْخلاف تحقیات کے دوران 120,000 افراد کو حراست میں لے چکی ہے۔

 

Related News