برطانیہ میں قائم واچ ڈاگ ٹارچر فرام فریڈم کا کہنا ہے کہ اگرچہ جولائی 2016 کی بغاوت کی کوشش کے بعد دنیا میں ترکی کا مقام ایک پر تشدد ریاست کے طور پر ابھرا ہے مگر ترک جیلوں میں نازیبا سلوک بہت عرصے سے ملک میں سیاسی عمل کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

واچ ڈاگ نے حال ہی میں 1992 سے 2015 کے دوران ترکی کی جیلوں میں روا رکھے جانے والے تشدد کے متعلق 60 میڈیکو لیگل رپورٹوں کی بنیاد پر ایک تفصیلی بریفنگ جاری کی ہے۔

رپورٹ میں کل ساٹھ کیسز میں  تشدد کے کئی طریقوں کو رپورٹ کیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق چالیس برس سے کم عمر کے کرد پس منظر کے حامل افراد سے ہے۔

اس کے علاوہ   پولیس کے کم از کم 17 حراستی مراکز کی تفصیل بیان کی گئی ہے جن میں سب سے زیادہ ذکر وظن سٹریٹ پر واقع استنبول پولیس کے ہیڈ کوارٹر کا ہے۔

تمام 60 متاثرین نے طاقت کے بہیمانہ استعمال،  عموماََ کسی چیز سے مارے جانے کا ذکر کیا، جبکہ 77 فیصد نے جنسی تشدد کا شکار ہونے کے متعلق بتایا۔  63 فیصد کیسز میں بجلی کے جھٹکے دیے گئے جبکہ 58 فیصد افراد نے دعویٰ کیا کہ انھیں تیز دھار ٹھنڈے ْ ہائی پریشر پانی کا نشانہ بنایا گیا۔

تشدد کے دیگر ظریقوں میں پاوں کے تلوں پر ضرب لگانا، دم گھٹنا، جلانا، مژکل انداز میں بتھائے رکھنا،  جعلی مقابلے اور کم از کم تین صورتوں میں  لوگوں کو چھت پر لے جا کر گرا دینے کی دھمکیاں شامل ہیں۔

Full report: https://www.freedomfromtorture.org/news-blogs/9471

Torture occurred in at least 17 different police detention facilities within the towns and cities marked below

 

Related News