سرکاری خبر رساں ایجنسی انا دولو کے مطابق استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں 189 وکیلوں کو حراست میں لینے کے لیے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 189 میں سے 78 وکیلوں کو آٹھ صوبوں میں جاری آپریشن کے نتیجے میں دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ پولیس کی ٹیموں نے حراست میں لینے سے قبل ان وکیلوں کے گھروں اور دفتروں کی تلاشی بھی لی۔

مارچ میں ترکی پرج ویب سائٹ پر آنے والی رپورٹ کے مطابق بغاوت میں ملوث ہونے یا گولن گروپ سے تعلق کے الزام میں کم از کم 370 وکیلوں کو جیل میں ڈالا گیا جبکہ 967 دیگر افراد سے تفتیش کی گئی۔

نیشنل اور انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایڈوکیٹس اور اداروں نے وکیلوں کے خلاف کریک ڈاون پر تنقید کی ہے اور اسے انصاف کے خلاف بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔

مئی کے مہینے میں جسٹس منسٹر بوزداغ نے کہا کہ 4,000 سے زائد ججوں اور پراسیکیوٹرز کو گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں بر طرف کیا گیا اور یہ کہ باقی رہ جانے والے ججوں اور پراسیکیوٹرز میں کوئی بھی ایسا نہیں جس سے تفتیش نہ کی گئی ہو۔

t24 نیوز ویب سائٹ کے مطابق حکومت نے 15 جولائی کے بعد سے ترکی کے 14,661 ججوں اور پراسیکیوٹرز میں سے 4,238 کو برطرف کر دیا ہے۔

دسمبر میں نیٹ ورک آف کونسل فار جوڈیشری (ENCJ) نے ترکی کے سپریم بورڈ آف ججز اینڈ پراسیکیوٹرز (HSYK) کی رکنیت معطل کر دی ہے اور اسے بڑے پیمانے پر ججوں اور پراسیکیوٹرز کی معطلی اور کونسلز آف جوڈیشری کے یورپین سٹینڈرڈز پر عمل نہ کرنے کی پاداش میں ENCJ کے پروگراموں میں شرکت سے روک دیا ہے۔

8 جون کو کونسل آف یورپ کمشنر فار ہیومن رائٹس نیلس موزنیکس  نے 16 اپریل کے ریفرینڈم میں منظور شدہ ترامیم کی بنیاد پر HSYK کی تنظیم نو پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عدلیہ کی آزادی کے لیے مناسب تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

15 جولائی کی ناکام بغاوت کی کوشش کے فوراََ بعد اے کے پی کی حکومت اور صدر رجب طیب اردگان نے الزام گولن کے پیروکاروں پر لگا دیا۔

گروپ اس الزام کو کلیتاََ مسترد کرتا ہے۔

8 مئی کو سرکاری انادولو نیوز ایجنسی کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق  بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں 154,694 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 50,136 کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔

(Turkish Minute)

 

 

Related News