ایک فزیشن، کالم نگار اور تنظیم برائے حقوق انسانی و حمایت مظلومین (مظلومدر) کے سابق سربراہ عمر فاروق گیرگیرلی اوغلو نے کہا ہے کہ حکومت نے انھیں کوجیلی میں واقع  سرکاری ہسپتال میں ملازمت سے برطرف کرنے کے بعد عوامی عمارات میں قدم رکھنے سے روک دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے کے آر ٹی، ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے گیرگیرلی اوغلو نے کہا کہ انھیں اپنے بچوں کے اسکول پہنچنے پر بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی ہے انھیں عمارت میں داخلے کی اجازت نہ دی جائے۔

انھیں والدین اور اساتذہ کے درمیان ہونے والی میٹنگ سے بھی صرف اس لیے اٹھا دیا گیا کہ انھیں حکومتی حکم کے تحت بر طرف کر دیا گیا تھا، گیر گیر لی اوغلونے بتایا۔

انھوں نے کہا کہ ہم سے کوڑھیوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ میں نے وزیر اعظم کمیونیکیشن بیورو(BIMER) سے اس پابندی کے بارے میں رابطہ کیا۔ مقامی گورنر کے دفتر سے خط و کتابت میں جواب آیا کہ ہمیں عواامی عمارات میں داخلے کی اجازت نہیں۔  کیا میں اب کسی عدالت یا ہسپتال میں بھی داخل نہیں ہو سکتا۔ مجھے BIMER کی جانب جواب دیا گیا میری اپیل کو نا منظور کر دیا گیا ہے۔  انتظامیہ کا حکم قانون کے عین مطابق ہے۔ حکومت اس کی تائیدکرتی ہے۔ کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ گلوب پوسٹ نیوز پورٹل نے گیر گیر لی اوغلو کے الفاظ کا ترجمہ اس انداز میں کیا۔

مجھے اپنے محلے میں ایک مسجد کے لیے قائم کی جانے والی فاونڈیشن کا رکن بننے بھی نہیں دیا گیا۔

اب تک 15 جولائی کی بغاوت سے تعلق کے الزام میں 130000 سے زائد افراد اپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں۔

Related News