اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق اگرچہ معاشی، معاشرتی اور ثقافتی حقوق صرف ایمرجنسی کی حالت میں ایسے طریقوں سے  ہی محدود کیے جا سکتے ہیں جہاں خود بخود بنیادی حقوق کا احترام موجود ہو مگر ترک حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدمات ان سب سے بہت دور ہیں کیونکہ 15جولئی کے بعد سے ہزاروں لوگوں کے کیریر اور روزگار برباد ہو گئے ہیں۔

اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم سے قبل اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 134000سرکاری ملازمین کی بغیر کسی طریقہ کار، کمپنسیشن یا مناسب فورم پر اپیل کے حق کے ایک ایسی تنطیم سے تعلق کی بنا پر برطرفی جسے حکومت نے نشانہ بنایا ہوا ہےاس کی ترکی کی بین الاقوامی حقوق انسانی کی ذمہ داریوں کے تناظر میں کوئی توجیح پیش نہیں کی جاسکتی۔

ترکی میں حقوق انسانی کی بگڑتی صورتحال کے خلاف آواز اٹھانے والے ماہرین میں خصوصی رپورٹر برائے شدید غربت و حقوق انسانی فلپ آلسٹن، آزادی اظہار کے حق کی حفاظت کے لیے خصوصی رپورٹر، ڈیوڈ کے، پرامن اجتماع اور ایسوسی ایشن کی آزادی کے حقوق کی نمایئندہ خسوصی، ماینا کیائی اور خسوصی نمائیندہ برائے حقوق تعلیم کومبو بولی بیری شامل ہیں۔

15 جولائی2016 کو ناکام فوجی بغاوت میں 240 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد فوری طور پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی اور حکمران جماعت AKP  اور صدر رجب طیب اردگان نے اس کا الزام گولن تحریک پر لگا دیا تھا۔

تحریک اس میں ملوث ہونے سے انکار کرتی ہےتاہم صدر اردگان نے ریاستی اداروں سے تحریک کے ہمدردوں کا صفایا کرنے، مقبول شخصیات کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور انھیں حراست می لینے کی مہم شروع کر دی۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بغاوت کی کوشش کے بعد سے حکومت کی جانب سےتعلیم کے حق کو نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ بر طرف کیے جانے والے ملازمین میں سے ایک قابل ذکر تعداد اسکول ٹیچرز یا وزارت تعلیم میں کام کر رہی تھی۔

وزیر محنت کی جانب سے 10جنوری کو دیے گئے بیان کے مطابق موجودہ پکڑ دھکڑ کے دوران ہزاروں فوجیوں سمیت 130000 سے زائد لوگوں کو ان کے گولن تحریک سے حقیقی یا مبینہ تعلق کے باعث نشانہ بنایا گیا ہے۔

یکم مارچ تک کے اعداد و شمار کے مطابق 193248 افراد کو بغیر کسی الزام کے حراست میں لیا گیا ہے جبکہ 46274 اضافی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

Related News