حکومت نے 12 سالہ معذور بچی رافیہ نور کو دی جانے والی امداد اس کے والد کی گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں گرفتاری کے بعد بند کر دی ہے۔ گولن تحریک پر 15 جولائی 2016 کی بغاوت کی کعشش کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا جاتا ہے۔

روزنامہ ینی ایشیا کے مطابق رافیہ نور جو 97 فیصد معذوری کی ریٹنگ میں آتی ہے، اس کے والد کو گزشتہ چھ ماہ سے تحریک سے وابستگی کے الزام میں ازمیرکی ایک جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ رافیہ کے بدن کا نچلا حصہ مفلوج ہے جس کے باعث وہ کھڑے ہونے اور چلنے پھرنے سے معذور ہے۔

15 جولائی کی بگاوت کی کوشش کے بعد سے ترکی حکومت کی جانب سے پکڑ دھکڑ کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے۔ ترکی کی حکمران جماعت اور صدر رجب طیب اردگان گولن تحریک پر اس بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتے ہیں اور بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کا عمل شروع کیے ہوئے ہیں۔ متاثرین میں ملک کی مقبول شخصیات شامل ہیں جن کے ساتھ غیوؤر انسانی سلوک اور انھیں جیل میں ڈال دینا شامل ہے۔

تحریک کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کرتی ہے۔

Related News