ترکی میں 15 جولائی کی بغاوت کے بعد ظلم و ستم کے شکار حزب مخالف کے گروہوں کیپراسرار گمشدگی ایک عمومی معاملہ بنتی جا رہی ہے جہاں اب تک مبینہ اغوا کے سات کیسز رجسٹر کیے جا چکے ہیں۔

آکتف حبر نیوز پورٹل کے مطابق کچھ عرصے سے منظر عام پر نظر نہ آنے والوں میں مشترک بات ان کا ترک حکومت کے ہاتھوں ناقدین کے خلاف آپریشن کے دوران ملازمتوں سے بر طرف کیا جانا ہے جن میں گولن تحریک کے ممبران کے خلاف کارروایاں سرفہرست ہیں۔

ترک حکومت 15 جولائی کی خون ریزی کا الزام گولن تحریک پر لگاتی ہے اور اس گروہ کو”مسلح دہشت گرد تنظیم” کا نام دے کر بدنام کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔  جبکہ تحریک ان الزامات کو رد کرتے ہوئے خود کو ایک سماجی تحریک قرار دیتی ہے جو تعلیم، بزنس، خیراتی سرگرمیاں سرانجام دیتی ہے۔ مبینہ طور پر حکومت اس تنظیم کے اہم ترین اراکین کے تعاقب میں ہے تاکہ اس کے تنظیمی ڈھانچے کو متاثر کیا جا سکے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج اور قریب سے گزرتے عینی شاہدین کے مطابق ان اغوا ہونے والوں میں سے کم از کم دو افراد کو (علیحدہ علیحدہ) نا معلوم افراد نے گھسیٹ کر گاڑی میں پھینک دیا۔ ان افرد کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ  زیادہ تر کیسز میں پولیس ان کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کر رہی۔

مبینہ طور پر اغوا کیے جانے والوں میں دو اساتذہ، یونیورسٹی کا ایک ملازم، خفیہ ادارے کے دو اہلکار، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن اتھارٹی (BTiK)کا ایک ملازم اور مسابقتی ادارے کا ایک ملازم شامل ہیں۔

چنگیز استاد 17 دنوں سے غائب ہیں

ازمیر کے 44 سالہ استاد جنھیں ایمرجنسی قوانین کے تحت ان کے عہدے سے بر طرف کر دیا گیا تھا، 4 اپریل سے درج ذیل دو پیشہ ور اساتذہ کے ہمراہ غائب ہیں جنھیں مبینہ طور پر اسی ہفتے کے دوران اغوا کر لیا گیا تھا۔

چنگیز ازمیر کے توربالی ضلع میں جمہوریت پرائمری اسکول میں ایک استاد تھے جنھیں یکم ستمبر 2016 کو حکومتی حکمنامہ کے ذریعے بر طرف کر دیا گیا تھا۔

اس استاد کے بڑے بھائی سلیم استا نے مقامی میڈیا کو بتایا: “میرا بھائی اپنی بیٹی کو گھر میں چھوڑ کر فیس جمع کروانے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔ وہ اب تک گھر واپس نہیں آیا۔ ایک عینی شاہد کا دعویٰ ہے کہ میرے بھائی کو عبدالقادر سٹریٹ پر دو افراد نے زبر دستی ایک گاڑی میں ڈال دیا۔ یہ سب پولیس ریکارڈ میں بھی درج ہے۔ ”

اوندس اسان، 20 دنوں سے غائب ہے

41 سالہ فلسفے کے استاد اوندر اسان کی اہلیہ فاطمہ اسان کے مطابق ان کے شوہر پراسرار طور پر انقرہ کے شینتیپے کے علاقے سے یکم اپریل کو لاپتہ ہو گئے۔

ترگت چاپان 21 دنوں سے لاپتہ ہیں

ترگت اوزال یونیورسٹی کے سابق ملازم ترگت چاپان کی اہلیہ  الکو چاپان کے مطابق ان کے شوہر کو31 مارچ کو اغوا کر لیا گیا۔ ترگت اوزال یونیورسٹی کو حکومت کی جانب سے گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں بند کر دیا گیا۔

مسعود گیچر 50 دنوں سے لاپتہ ہیں

مسعد گیچر نیشنل انٹیلی جنس ایم آئی ٹی میں ملازم تھا جسے ھکومت نے بغاوت کے بعد کریک ڈاون میں بر طرف کر دیا تھا۔

اس  برس مارچ میں اس کی کار کو انقرہ کے ینی محلہ ڈسترکٹ میں روکا گیا اور اسے مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔

حسین کوتوجے 81 دنوں سے لاپتہ ہیں

BTIK کے ملازم حسین کوتوجے کو مبینہ طور پر اس برس فروری میں انقرہ کے بلکنت سب وے اسٹیشن کی پارکنگ لاٹ سے اغوا کر لیا گیا۔

مصطفیٰ اوزگن گلتکین 120 دنوں سے لاپتہ ہیں

21 دسمبر 2016 کو مصطفیٰ اوزگر گلتکینکا کم از کم چار کاروں نے تعاقب کیا۔ اسٹور سے نکلتے ہی اسے چند افراد نے گھیر لیا اور زبر دستی ایک کالے شیشوں والی گاڑی میں بٹھا دیا۔

آیہان اوران 171 دنوں سے لاپتہ ہیں

2005 سے MIT میں ملازم اوران کو گزشتہ برس 2 اگست کو اس کے تحریک کے ساتھ مبینہ تعلقات کی وجہ سے بر طرف کر دیا گیا تھا۔

اسے آخری مرتبہ گزشتہ برس یکم نومبر کو اپنے رہایشی کمپاونڈ سے نکلتے دیکھا گیا تھا۔ اس کے فن کے سگنل اس دن شام چار بجے تک کام کر رہے تھے۔

 

 

۔

 

 

Related News