اپنے بچے کی پیدائش سے محض چند دن قبل کیسری شہر کی ایک خاتون اب بھی حراست میں ہے اگرچہ  بچے کو دل اور گردوں کے مسائل کا سامنا ہے ۔

روزنامہ حریت کی کالم نگار عائشہ ارمان نے ساڑھے آٹھ ماہ کی حاملہ شولے گمشولک جسے کیسری میں جیل میں رکھا گیا ہے اس کے وکیل مہمت فاتح اوزترک کا انٹرویو کیا۔

’’موجودہ میڈیکل رپورٹوں کے مطابق بچے کے دل اور گردے میں مسائل ہیں۔ اس کے دل میں سوراخ ہے اور گردے نارمل رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک ڈاکٹر نے شولے کو یہ بھی کہا ہے کہ بچے کا فوراََ علاج کرنا ہو گا اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔ اگر ماں زیر حراست نہ ہوتی تو بچے کا علاج پیدائش سے قبل بھی ہو سکتا تھا۔ ‘‘ اوزترک نے ارمان کو بتایا۔

وکیل نے بتایا کہ شولے کو اس حالت میں زیر حراست رکھنانہ صرف بچوں کے حقوق پر بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ ترکی کے اپنے قوانین کے بھی خلاف ہے۔

وکیل نے مزید بتایا:’’بعد از بغاوت ایمرجنسی قوانین کے تحت بہت کچھ ایسا ہو رہا جو ناقابل یقین ہے۔‘‘

پندرہ جولائی 2016  کی بغاوت کی کوشش کےبعد سے کریک ڈاوٗن میں 120,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا اور تقریباََ 50,000  افراد کو جیل میں ڈالا گیا۔ گرفتار شدگان میں بہت سی حاملہ خواتین، بزرگ شہری، معذور افراد اور دیگر مظلوم طبقات کے لوگ شامل ہیں۔

Related News