33سالہ پولیس افسر قادر آیجے، جسے گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا، صحت کی خرابی کی بنا پر قید سے رہائی کے چند ہفتے بعد انتقال کر گیا ۔

خاندان کے اراکین کی جانب سے ٹوئٹر پر ڈالی جانے والی تصویروں کے مطابق ٓیجے کو جیل میں خوراک اور پانی سے محروم رکھا گیا تھا جس کے باعث صرف تین ماہ میں اس کے وزن میں 45 کلو گرام کی کمی آئی۔ آیجے کے مقدمے کی پیروی کرنے والے ایک وکیل نے بتایا کہ گرفتاری کے وقت اس کا وزن 90 کلو گرام تھا۔ سوشل میڈیا پر ڈالی جانے والی تصاویر سے جیل میں پولیس افسر کے ساتھ خراب سلوک کی نوعیت بھی ظاہر ہوتی ہے جس کے باعث ملک بھر کی جیلوں مین قید شہریوں کی حالت کے بارے میں بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

یہ دو تصاویر آیجے کو گولن تحریک سے منسلک مالی ادارے، بنک ایشیا میں رقم جمع کروانے کے الزام میں جیل میں ڈالے جانے سے قبل کی ہیں۔

اطلاعات ک مطابق پولیس افسر سواس کے ہسپتال میں انتقال کر گیا۔  اس کئی دنوں سے معدے کی تکلیف کے باوجود علاج کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسے صرف اس کی کوٹھڑی میں علاج کا کہا گیا۔  جب بالآخر اسے ہسپتال منتقل کیا گیا تو دیر ہو چکی تھی۔ پولیس افسر کی اہلیہ امل ٓیجے نے بتایا کہ اس کی لاش ناقابل شناخت تھی۔

ترکی میں 15 جولائی کو فوجی بغاوت کی کوشش کی گئی جس کے باعث 240 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ ا س ناکام کوشش کے فوراََ بعد جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) حکومت اور صدر رجب طیب اردگان نے گولن تحریک کو اس کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

اگرچہ تحریک اس بغاوت میں کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کرتی ہے حکومت نے سکاری اداروں سے تحریک کے ہمدردوں کو نکالنے، معروف ہستیوں کے خلاف غیر انسانی سلوک کرنے اور انھیں جیل میں ڈال دینے  کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

جیلوں میں خودکشیوں اور انتقال کے بہت سے کیسز ہیں، جن میں سے کچھ مشکوک ہیں جن میں وہ لوگ شامل ہیں جنھیں گولن تحریک کے خلاف آپریشن کے نتیجے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

 

Related News