حکومت نواز اخبار روزنامہ صباح نے ھفتے کے روزدعویٰ کی اہے کہ قطر نے 45 ترک باشندوں کو گولن تحریک سے تعلقات کے الزام میں ملک بدر کر دیا جس پر حکومت 15 جولائی 2016 کی بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتی ہے۔

تحریک اس الزام سے انکار کرتی ہے مگر ترکی میں اس گروہ سے حقیقی تعلق یا محض الزام کے نتیجے میں 120,000 سے زائد افراد جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکے ہیں۔

اخبار کے مطابق 45 لوگوں میں سے ماہر تعلیم زکریا اوزشیوک اور ان کی اہلیہ دریا اوزشیوک کو استنبول پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ باقی افراد کے متعلق کوئی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

قطر یونیورسٹی میں انگریزی لسانیات اور ادب کے استاد زکریا کو دہشت گرد تنظیم میں رکنیت کے الزام میں زیر حراست رکھا گیا ہے جبکہ ان کی اہلیہ کو جوشل کنٹرول پر رہا کر دیا گیا۔

ترک حکومت تحریک کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتی ہے اور صدر رجب طیب اردگان نے غیر ملکی حکومتوں سے اپنے ملکوں میں گولن کے پیروکاروں کو سزا دینے کے لیے کہا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ جب کسی دوسے ملک نے ترک حکومت کے تحریک کے پیروکاروں کے خلاف پکڑ دھکڑ کے منصوبوں کے تحت گولن تحیک سے تعلق کے الزام میں لوگوں کو حراست میں لیا یا ملک بدر کیا ہو۔

مئی میں سعودی عرب، ملایشیا، جارجیا اور برما نے اساتذہ، تاجروں اور اسکول کے پرنسپلوں کو ترک حکومت کی درخواست پر ترکی کے ھوالے کیا تھا حالانکہ ان میں سے چند اقوام متحدہ کے تحت پناہ گزین کی حیثیت کے حامل تھے۔

5 جون 2016 کو عرب ملکوں سے تعلقات ٹوٹنے کے بعد ترکی نے اپنے دیرینہ اتحادی قطر کا ساتھ دیا ہے۔ .

Related News