چار افراد کو انقرہ میں ایک پیسٹری شاپ پربدھ کے روز اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ مبینہ طور پر پکڑ دھکڑ سے بچنے کے لیے ترکی سے باہر جانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

سکاری خبر رساں ایجنسی انادولو نیوز کے مطابق انقرہ پولیس نے انقرہ کے اتیمیسگت ضلع میں ایک بیکری پر چھاپہ مارا جہاں دو وکیل، ایک ڈاکٹر اور یونیورسٹی طالب علم ترکی سے غیر قانونی طور پر باہر جانے سے قبل منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

پولیس نے چھاپے کے دوران 22,000  ترکی لیرہ [$6,500]، پاسپورٹ سائز تصاویر اور کسی دوسرے افراد کے شناختی کارڈ برامد کیے۔

ان میں سے ایک وکیل کے لیے پہلے ہی گولن تحریک سے تعلقات کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کیا جا چکا ہے۔

پندرہ جولائی کے بعد سے 120,000 سے زائد افراد کو زیر حراست جبکہ تقریباََ 50,000 افراد گرفتار ہیں جن میں ماہرین تعلیم، جج، ڈاکٹر، اساتزہ، وکیل، طلبہ، پولیس والے اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

ملازمتوں سے برخواستگی پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے ترک حکومت نے ہزاروں لوگوں کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے اور ان پر سفری پابندیاں لگا دیں۔