کردوں کی حامی DIHA نیوز ایجنسی نے منگل کو خبر دی کہ ایک دودھ پلاتی ماں کو اس کے آٹھ ماہ کے شیر خوار بچے سے اس وقت جدا کر دیا گیا جب اس کی ماں کو استنبول کی ایک جیل سے گیبزے کی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔

خبر ایجنسی کے مطابق گلستان اکبابہ کو استنبول میں خواتین اور بچوں کی  باکر کوئےجیل سے، جہاں اسے دو سال سے زئد عرصے تک رکھا گیا استنبول کے جنوب مشرق میں 60 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ازمت کی خلیج میں واقع گیبزے شہر منتقل کر دیا گیا۔

اس منتقلی کے دوران مبینہ طور پر اکبابہ نے اپنے بچے کے ہمراہ پولیس وین میں سوار ہونے سے اس بنا پر انکار کر دیا کہ شیر خوار بچہ ایک گاڑی میں ایسا سفر برداشت نہیں کر سکتا۔  اس کے انکار پر پولیس نے بچے کو اکبابہ کے وکیلوں کے حوالے کر دیا۔

ماں کو گیبزے بھیج دیا گیا جبکہ بچہ باکر کوئے کی جیل کے باہر وکیلوں کے پاس رہ گیا۔

خوش قسمتی سے وکیلوں کی مدد کے باعث  ما ور بچہ چند گھنٹے بعد پھر سے اکٹھے  ہو گئے۔

2012 میں جب اکبابہ کالعدم کردوں کی حامی جماعت BDP کی رکن تھی اسے چھ سال اور تین ماہ  ” دہشت پسند تنظیم کا پراپیگنڈہ پھیلانے کے جرم میں گزارنے پڑے تھے۔

BDP ایک کردش نیشنل پارٹی تھی جو ترکی میں 2008 سے 2014 تک قائم رہی۔ BDP نے 2008 میں DTP کی جگہ لی تھی جب BDP پر کردستان ورکرز پارٹی PKK سے مبینہ تعلقات کا الزام لگایا گیا تھا۔

 

 

Related News