15 جولائی کی بغاوت کی کوشش کے تناظر میں حکومتی احکامات پر ملازمت سے بر طرفی کے خلاف احتجاج کرنے والے استاد سمیع اوزکاجا کی والدہ اور اہلیہ کوپولیس افسران کے ایک گروہ نے بری طرح سے فرش پر گھسیٹا۔

رپورٹس کے مطابق اوزکاجا کی اہلیہ اور والدہ کو گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے پر کافی دور تک فرش پر گھسیٹا گیا جس کے نتیجے میں انھیں اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔

ترک ماہرین تعلیم سمیع اوزکاجا اور نوریے گلمین اس وقت شہ سرخیوں کا حصہ بنے تھے جب انھوں نے بغاوت کی کوشش کے بعد دیے جانے والے حکومتی احکامات کے نتیجے میں ملازمت سے بر طرفی پر بھوک ہڑتال کر دی تھی۔

انھیں احتجاج کے پچھترویں دن ترکی میں ’’ وسیع پیمانے پر حتجاج کو ہوا دینے‘‘ کے الزام کے تحت جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

گلمین کو کونیا کی سلجوک یونیورسٹی سے گولن تنظیم سے وابستگی کے الزام میں بر طرف کر دیا گیا تھا جس پرترک حکومت بغاوت کی کوشش کی منصوبہ بندی کا الزام لگاتی ہے۔

اوزکاجا دہشت گرد تنظیم سے تعلق کے شبے میں نکالے جانے سے قبل ترکی کے مشرقی صوبے ماردین میں ایک پرائمری اسکول ٹیچر تھے۔

Related News