انقرہ کے لقمان حکیم ہسپتال میں بچے کو جنم دینے والی نازلی میرت کو پولئیس نے حراست میں لے کر اس کے نومولود بچے سمیت پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا تا کہ گولن تحریک کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی جا سکے۔

حبردار نیوز پورٹل کے مطابق نازلی کیرت کے شوہر کو اس کے گولن تحریک سے مبینہ تعلق کے شبے میں پہلے ہی گرفتار کر کے قید میں رکھا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نازلی نے آپریشن کے بعد بچے کو جنم دیا۔

یہ پیدائش کے فوراََ بعد کسی خاتون کی گرفتاری کا پہلا واقعہ نہیں۔

ترک پولیس نے برسہ میں اسلامیات کی استاد الف اسلانیر کو بھی بچے کو جنم دینے کے فوراََ بعد گولن تحریک سے تعلق کے جرم میں گرفتار کر لیا۔

اس کے شوہر نے اکتف حبر نیوز پورٹل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس بدھ کے دن اسلانیر کو حراست میں لینے کے لیے ہسپتال پہنچی تاہم ڈاکٹر نے انھیں بتایا کہ اسے ممکنہ مسائل سے بچنے کے لیے کم از کم 48 گنٹے کے لیے نگہداشت میں رکھنا ضروری ہے۔

اسلانیر کے شوہر نے بتایا کہ اس کی بیوی کو پہلے بچے کی پیدائش کے وقت بھی طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے باعث وہ دو دن تک کومہ کی حالت میں رہی تھی۔ شہور نے مزید کہا کہ ایک مرتبہ پھر پیچیدگیوں کے خطرات موجود ہیں۔

شوہر نے یہ بھی بتایا کہ ان کے گھر پر ان کی غیر موجودگی میں چھاپا مارا گیا جب ابھی اس کی بیوی حاملہ تھی۔ اس نے کہا کہ اس کی بیوی خود کو پولیس کےحوالے نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ گرفتاری سے خوفزدہ تھی کیونکہ اس جیسی دیگر خواتین کو حمل کی حالت میں یا بچے کی پیدائش کے فوراََ بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

اکتف حبر کے مطابق اسلانیر کو جمعہ کے دن اس وقت گرفتار کیا گیا جب اسے نومولد کے ہمراہ ہسپتال سے ڈسچارج کیا جا رہا تھا۔

مئی میں ایک انگلش ٹیچر آیسون آیدیمر کو آپریھشن کے بعد بچے کی پیدائش کے بعد ہسپتال سے حراست میں لیا گیا اور گولن تحریک کے خلاف تحقیقات کے سلسے میں عدالتی احکامات پر گرفتار کر کے تین دن کے نومولود کے ہمراہ زوگلداک کی جیل میں قید کر دیا گیا۔

جنوری کے اواخر میں فادمے گنائے کو بچے کی پیدایش کے فوراََ بعد انطالیہ کے الانایہ باشکنت ہسپتال سے حراست میں لیا گیا۔

جنوری کے اوائل میں ایک سابقہ اسکول ٹیچر Ş.A.جو ایک ھفتے کے پری میچور نومولد کی ماں ہے اسے گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لیے ہسپتال جا رہی تھی۔

ایک دن بعد مریم نامی ایک اور ماں نے کونیا شہر میں آپریشن کے بعد جڑواں بچوں کو جنم دیا مگر سے حراست میں لیا گیا اور ہسپتال رپورٹوں میں سفر نہ کرنے پر زور دینے کے باوجود پولیس کار میں کونیا سے اکسرائے لے جایا گیا۔

ترکی 15 جولائی کو ایک فوجی بغاوت سے بچ گیا جس میں 240 سے زائد افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ اس بغاوت کےفوراََ بعد جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی حکومت اور صدر طیب اردگان نے اس کوشش کا الزام گولن تحریک پر لگا دیا۔

گعلن تحریک ایسے تماام الزامات کو رد کرتی ہے۔

28 مئی کو سرکاری انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد سے گولن تحریک سے تعلق کے الزام میں 154,694 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 50,136 کو جیلوں میں ڈالا گیا ہے۔

 

 

Related News