ہم کون ہیں

ہم نوجوان صحافیوں کا ایک گروپ ہیں جو ظالم ترک حکومت کے ظلم کے شکار عوام کی آواز ہیں۔

ہم سب کی ذاتی کہانیاں بھی ہیں جنھوں نے ہمیں یہ ویب سائٹ بنانے پر اکسایا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں کے خاندان کے لوگ زیر حراست ہیں۔ کچھ کے قریبی دوست اس وقت جیل میں تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔ہم میں سے کچھ لوگوں کو حکومت نے بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کے دوران نشانہ بنایا۔

ہم میں سے چند پہلے ہی ترکی سے باہر رہ رہے ہیں اور کچھ حال ہی میں ترکی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

یہ ہیں ہم۔ نوجوان صحافیوں کا ایک گروپ جن کے پاس پہلے ہی وہ سب موجود تھا جو اس ویب سائٹ شروع کرنے کے لیے درکار تھا، صحافیانہ قابلیت، پچاس ڈالر کی ٹمپلیٹ اور ظلم کے خلاف لڑنے کا جذبہ۔

ہم نے واضح وجوہات کی بنا پر اپنے نام ظاہر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جی ہاں، شاید ہمیں اپنی جان کی فکر نہیں مگر ہم میں سے ہر ایک کا خاندان ہے۔ ترکی میں جب حکومت کسی صحافی، نقاد یا کسی بھی وفادار نظر نہ آنے والے کو گرفتار نہیں کر پاتی تو پھر کوئی نہیں جانتا کہ انھیں خود کو قانون کے حوالے کر دینے کے لیے مجبور کر دینے کے لیے کسے گرفتار کر لیا جائے۔ والدین، بہن بھائی، بچے ۔۔۔۔۔

اس ویب سائٹ پر جو کہانیاں آپ پڑھتے ہیں وہ حقیقی ہیں۔ ہمیں ملنے والی ہر خبر کی مکمل تصدیق کی جاتی ہے۔ ہم صرف اسی کی اشاعت کرتے ہیں جس کی تصدیق ہو جاتی ہے۔  وہ کہانیاں جن کی تصدیق کسی با وثوق ذرائع سے نہیں ہو پاتی اور جو شائع نہیں ہو پاتیں وہ شائع شدہ کہانیوں سے کہیں زیادہ چونکا دینے والی ہیں۔

صحافت کوئی جرم نہیں۔  نہ کبھی تھا اور نہ کبھی ہوگا۔

ہمارا طریقہ کار

ترکی میں ہونے والی موجودہ پکڑ دھکڑ ترکی کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) کی حکومت اور ترک صدر رجب ظیب اردگان کی جانب سے 15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد چلائی جانے والی مہم ہے۔ اس مہم میں  ریاستی بیورو کریسی سے بڑے پیمانے پر ملازمین کا انخلا، امریکہ میں مقیم ترک امام فتح اللہ گولن سے ،جن پر ترک حکومت ناکام بغاوت کا ماسٹر مایئنڈ ہونے کا الزام لگاتی ہے، مبینہ تعلق کے شبے میں ہزاروں سویلینز پر دباو،  اور پولیس کی جانب سے قید وبند اور ترک جیلوں میں بڑے پیمانے پر تشدد اور اموات کے الزامات شامل ہیں۔

www.turkeypurge.com ایک ایسی ویب سائٹ ہے جس کے قیام کا مقصد ترکی میں بڑے پیمانے پر ہونے والی پکڑ دھکڑ پر نظر رکھنا ہے۔

اپنے مرکزی صفحے پر ہم روزانہ کی بنیاد پر اساتذہ، فوجی افسران، پولیس افسران، ماہرین تعلیم، حکومتی اہلکاران اور بیوروکریٹس کی خبر رکھتے ہیں جنھیں حالیہ پکڑ دھکڑ کے نتیجے میں ملازمتوں سے برخواست کیا جا رہا ہے۔

ہم یہ حساب درج ذیل تین ذرائع سے کرتے ہیں:

1-www.resmigazete.gov.tr/eskiler/2016/09/20160901M1-1.htm

2- https://freedomforturkishacademics.wordpress.com

3-https://cpj.org/blog/2016/09/authorities-prevent-journalist-wife-from.php

اسی سیکشن میں ہم ان تمام لوگوں کا بھی حساب رکھتے ہیں جنھیں 15 جولائی سے حراست میں لیا یا گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ ہمارے ذرائع ہیں:

1-www.resmigazete.gov.tr/eskiler/2016/09/20160901M1-1.htm

2- https://freedomforturkishacademics.wordpress.com

3-https://cpj.org/blog/2016/09/authorities-prevent-journalist-wife-from.php

اپنے اس صفحے پر ہم ان اداروں، فاونڈیشنز، اسکولوں، ہاسٹلوں اور یونیورسٹیوں کا بھی حساب رکھتے ہیں جنھیں حکومت نے 15 جولائی کے بعد سے بند کیا ہے۔ ہمارے ذرائع:

1- http://www.resmigazete.gov.tr/eskiler/2016/07/20160723-8.htm

اس کے علاوہ اس سیکشن میں آپ کو ان میڈیا اداروں کی درست تعداد کے متعلق بھی علم ہو گا جنھیں 15 جولائی کے بعد سے بند کیا گیا ہے اور ان صحافیوں کے متعلق بھی جنھیں اس وقات سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ہمارے ذرائع ہیں:

1-http://platform24.org/medya-izleme/1702/olaganustu-h-l-de-gazeteciler—16

2- http://www.zamanaustralia.com.au/2016/07/ohal-karari-ile-medyaya-darbe-iste-kapatilan-yayin-organlari/ ترکی میں پکڑ دھکڑ

Share This