ترکی کے سرکاری اور دیگر اداروں میں چھانٹی کا عمل جاری ہے اور تمام طبقہ ہائے زندگی کے افراد کو نشانہ بنا کر حراست میں لیا جا رہا ہے۔

Turkeypurge.com.کی جانب سے اکٹھے کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جون کے پہلے پندرہ دنوں کے دوران کم از کام 1601 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ 895 افراد کو جیلوں میں بند کیا گیا۔ ان میں اقلیتی کرد کمیونٹی کے افراد کے علاوہ گولن گروپ کے افراد بھی شامل ہیں جس پر ترک حکومت 15 جولائی 2016 کی بغاوت کا الزام لگاتی ہے۔

حراست، گرفتاریوں اور بر طرفیوں کے یہ واقعات یکم جون سے 14 جون تک پیش آئے۔

یکم جون کو چار افراد کو انقرہ کی ایک پیسٹری شاپ پر حراست میں لیا گیا جب وہ مبینہ طور پر حکومتی کریک ڈاون سے بچنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی انا دولو کے مطابق انقرہ پولیس نے ایتمیسگت ڈسڑکٹ کی ایک بیکری پر چھاپہ مارا جہاں ترکی سے فرار سے قبل دو وکیل، ایک ڈاکٹر اور یونیورسٹی کا ایک طالب علم جمع تھے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس نے 22,000 ترک لیرے [6,500 ڈالر], پاسپورٹ سائز تصاویر اور شناختی کارڈ بھی قبضےمیں لیے جو حراست میں لیے جانے والوں کے نہیں تھے۔

یکم جون کو ایک ویڈیو فوٹیج ممیں دیکھا جا سکتا ہے کہ ترک پولیس ایک سابقہ سیاسی قیدی اور بغاوت کے بعد پکڑ دھکڑ میں برخواست شدہ سرکاری ملازم ولی ساچیلک پر پلاسٹک کی گولیاں چلا رہی ہے۔

43 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں جسے ٹوئٹر پر سینکڑوں مرتبہ شیئر کیا گیا۔ یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ سالیجک پر پہلے پولیس کے ایک گروپ نے حملہ کیا اور پھر بعد از بغاوت ایمر جنسی قوانین کے تحت اپنی بر طرفی کے خلاف احتجاج پر اسے سینکڑوں پلاسٹک کی گولیوں کا نشانہ بنایا۔

گولی لگنے کے بعد دیکھا جا سکتا ہے کہ سالجلک زمین پر گرا اور رینگتا ہوا چلا گیا۔

یکم جون کو ترک فیشن ڈیزائنر بار بروس ژامسائی کو سال نو کے موقع پر سوشل میڈیا میں پوسٹ کی جانے والی ایک ویڈیو کے ذریعے ترک قوم کی توہین کے جرم میں چھ ماہ بیس دن کی قید کا حکم سنایا گیا

روزنامہ ایورینسل کے مطابق دو جون کو بندش کا سامنا کرنے والی کرد نواز نیوز ایجنسی (DİHA) کے سابق سربراہ زکریا گوزوپیک اور DİHA کی کردش سروس کے ایڈیٹر مہمت علی ایرتاش کو پولیس نے دیاربکر کے صوبے سے حراست میں لے لیا۔

دو جون ہی کو ایک نو سالہ بچی کو مبینہ طور پر اپنے اس خاندان سے الگ کر دیا گیا جس نے اسے گود لیا تھا۔ اس کی وجہ اس خاندان کے سربراہ کا گولن تحریک سے مبینہ تعلق کے شبے میں زیر تفتیش ہونا تھا۔

دو جون کو اسلامیات کی ایک ٹیچر ایلف اسلانیر کو برسہ کے نجی ہسپتال میں بچے کی پیدائش کے محض چند گھنٹوں بعد اس کے ترکی کے گولن گروپ سے مبینہ تعلق کے شبے میں حراست میں لے لیا گیا۔

دو جون کو ترکی یونان سرحدی علاقے میں کم از کم دس افراد کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔  حراست میں لیے جانے والوں میں چار اساتذہ، ایک ڈاکٹر اور ایک سارجنٹ شامل ہیں جنھیں گولن گروپ سے مبینہ تعلقات کے شبہے میں ملازمتوں سے بر طرف کر دیا گیا تھا۔

دو جون کو انادولو یونیورسٹی کی ایوی ایشن اینڈ سپیس ساینسز فیکلٹی کے چھ طلبہ اور گریجویٹس کو گولن گروپ کے خلاف تحقیقات کے سلسے میں حراست میں لیا گیا۔

دو جون کو اکسرائے ڈسٹرکٹ میں ایک ڈایلیسز سینٹر کے ایگزیکٹوز، پارٹنرز اور ملازمین سمیت سات افراد کو گولن گروپ کے خلاف تحقیقات کے سلسے میں حراست میں لیا گیا۔ ان افراد پر تحریک کو چندہ دینے کے الزامات ہیں۔ دیشت گردی کے ثبوت کے طور پر انتیس ایک ڈالر کے نوٹ بھی قبضے میں لیے گئے۔

روزنامہ بر گن کے مطابق دو جون کو ترک پولیس نے پروفیسر ڈاکٹر مہمت کانتر کو حراست میں لے لیا جو  این بی اے اہکلاھاما سٹی تھنڈر کے کھلاڑی انس کامتر کے والد ہیں جسے حکومت گولن گروپ سے تعلق کے الزام میں گرتار کرنا چاہتی ہے۔

دو جون کو ادانہ کی ایک عدالت نے بصارت سے محروم صحافی جنید ارات کو ترک مبلغ فتح اللہ گولن اور ان کی تحریک کی تعریف کرنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی انا دولو کے مطابق دو جون کو سواس کے پراسیکیوٹر نے گولن گروپ کے خلاف تحقیقات کے سلسے میں سات صوبوں سے 13 ڈینٹسٹ کی حراست کے لیے وارنٹ جاری کیے۔

3 جون کو گولن گروپ کے خلاف تحقیقات کے سلسے میں رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم بنالی یلدرم کے چیف ایڈوائزر کو انقرہ میں حراست میں لے لیا گیا۔

3 جون کو سامسن میں گولن گروپ کے خلاف تحقیقات کے سلسے میں اسی نوعیت کے الزامات کے تحت چودہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

سامسن اور انقرہ کے صوبوں میں بیک وقت جاری آپریشن میں بائی لاک موبائل اپلیکیشن استعمال کرنے یا اب بند کر دیے جانے والے بنک ایشیا میں رقم جمع کرانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں ایک وکیل، 12 اساتذہ اور ایک سرکاری ملازم شامل ہیں جنھیں اسی نوعیت کے الزامات کے تحت ملازمتوں سے برخواست کر دیا گیا تھا۔

4 جون کو روزنامہ آیئدینیک کے ایڈیٹر انچیف یلکر یوجل جو الٹرانیشنلسٹ ہوم لینڈ پارٹی سے منسلک ہے، انھیں ترکی کے اگدیر صوبے میں حراست میں لیے جانے کے بعد ایک عدالت نے گرفتار کر لیا۔ انھیں بعد میں اسی عدالت نے رہا کر دیا۔

4 جون کو ہی گولن گروپ کے خلاف تحقیقات کے سلسے میں ریززے کے صوبے میں کم از کم 40 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ بائی لاک سمارٹ فون اپلیکیشن استعمال کرنے کے الزام میں زیر حراست افراد میں سرکاری ملازمین، چھوٹے تاجر اور نجی شعبے کے تاجران شامل ہیں۔

بائی لاک اپلیکیشن کے متعلق ترک حکام کا خیال ہے کہ یہ گولن گروپ کے پیروکاروں کے درمیان رابطے کا اہم ترین ذریعہ تھا۔

4 جون کو گولن گروپ کے کلاف چورم صوبے میں ہونے والی تحقیقات میں کم از کم بیس خواتین کو حراست میں لے لیا گیا۔

5 جون کو ترکی کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کالعدم کردستان ورکرز پارٹی  (PKK). کے لیے سوشل میدیا پر پراپیگنڈہ کرنے کے الزام میں کم از کم 81 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔  وزارت نے بتایا کہ 395 سوشل میڈیا یوزرز کے خلاف تحقیقات کی گئیں جبکہ ان میں سے 81 کو گزشتہ ہفتے کے دوران حراست میں لیا گیا۔

5 جون کو  ترکی بھر میں گولن گروپ کے خلاف جاری تحقیقات میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 920 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ وزارت داخلہ کے تحریری بیان کے مطابق 920 افراد کو ان کے گولن گروپ سے مبینہ تعلقات کے شبے میں 29 مئی اور  5 جون کے درمان حراست میں لیا گیا۔

5 جون کو 31 سالہ ٹیچر ایسرا دیمر کو بتمان کے ہسپتال میں بچے کو جنم دینے کے چند ہی گھنٹوں بعد حراست میں لیا گیا اور ترکی کے گولن گروپ کے کلاف تحقیقات کے سلسے میں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔

5 جون کو ترکی کی وزارت داخلہ نے ترک مبلغ فتح اللہ گولن اور کرد نواز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (HDP) کے دو ممبران اسمبلی سمیت 130 افراد کی فہرست جاری کی جو اس وقت ملک سے باہر ہیں۔ اگر یہ افراد تین ماہ میں وطن واپس نہ آئے تو ان کی ترک شہریت معطل کر دی جائے گی۔ یہ فہرست سوموار کے دن آفیشل گزٹ میں شائع کی گئی۔

5 جون کو حطائے کی ایک عدالت نے ایک ترک شیری محمد فرقان سوکمین کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا۔ سوکمن میانمار میں گولن گروپ کے دو اسکولوں میں کام کر رہا تھا اور اسے سوشل میدیا پر اس کی دہایوں کے باوجود زبر دستی ترکی واپس بھیج دیا گیا تھا۔

6 جون کو ترک پراسیکیوٹرز نے گولن گروپ کے ساتھ مبینہ تعلقات کے الزام میں ترکی کی وزارت تعلیم اور توانائی کے 47 افراد کی حراست کے وارنٹ جاری کر دیے۔  ترک میڈیا رپورٹس کے مطابق ان فراد میں سے تیس وزارت تعلیم جبکہ سترہ افراد وزارت مواصلات میں کام کر رہے تھے۔

6 جون کو استنبول چیف پراسیکیوٹر آفس نے تیرہ افراد کے خلاف بغاوت کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا کی اپیل کی جن میں ممتاز  ترک صھافی اور پاپ گلوکار اتلا تاش بھی شامل ہیں۔ مقدمے میں شامل صحافیوں میں نیشنل پارٹی (UP) کے رہنما اور ہفت روزہ ترک سولو کے کالم نگار گوکچے فرات چلہو اوغلو، بنیامین کوسیلی، جہان اجار، عبداللہ کلیچ، اوغوز اسلوئر، ییتکن یلدز، علی اکنش، اور مشہور پاپ گلوکار تاش شامل ہیں۔ مقدمے کے مطابق یہ افراد اپنی کہانیوں، تنقیدانہ ٹوئٹس اور ری ٹوئٹس کی وجہ سے ایک دہشت گرد تنظیم کی رکنیت کے ملزم ہیں۔

6, جون کو روزنامہ ایورینسل کے منیجنگ ایڈیٹر چائن سان اور سابقہ لایسنس یافتہ عارف کوشار کو ترکش پینل کوڈ کی دفعہ 301 کے تحت پانچ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

6 جون کو ملاتیا میں گولن تحریک کے خلاف جاری تحقیقات کے سلسے میں بارہ اساتذہ کو حراست میں لے لیا گیا۔

7 جون کو کستانومو میں مقیم یونورسٹی طالب علم ایم اے کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت ۶ سال ۳ ماہ جیل کی سزا سنا دی گئی۔ بائی لاک ایپلیکیشن کے استعمال کے الزام میں کچھ عرصے سے زیر حراست  ایم اے کو گعلن گروپ میں مبینہ رکنیت کے الزام میں سزا سنائی گئی۔

7 جون کو گولن گروپ کے خلاف تحقیقات میں ملازمتوں سے پہلے یہ برخواست شدہ تہت اساتذہ کو حراست میں لے لیا گیا۔

7 جون کو حکومت کی جانب سے 2015 میں ضبط شدہ استنبول میں قائم کاینک ہولڈنگ کے خلاف تحقیقات کے سلسے میں 128 افراد کے وارنٹ جاری کر دیے گئے۔  استنبول کے ایک پراسیکیوٹر نے کاینک ہولڈنگ کے تحت ایک فاونڈیشن، ایک ایسوسی ایشن اور 19 کمپنیوں کے 128 ایگزیکٹوز کے خلاف حراست کے وارنٹ جاری کیے۔

8 جون کو گولن گروپ کے خلاف جاری تحقیقات کے سلسے میں انقرہ میں گیارہ بنک ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا۔

8 جون کو انطالیہ کی آک دینز یونیورسٹی مین 2008 سے لے کر 2015 تک ریکٹر کے فرایض سرانجام دینے والے پرہفیسر ڈاکٹر اسرافیل کرتچپہے کو گولن گروپ سے مبینہ تعلقات کے شبے میں مقدمے سے قبل حراست میں لے لیا گیا۔

8 جون کو استنبول کے ایک پراسیکیوٹر نے استنبول کے سابق گورنر حسین آونی اور سابق پولیس چیف حسین چاپکن کے خلاف گولن گروپ سے مبینہ تعلقات کے الزام میں مسلسل عمر قید کی سزا کی سفارش کی ۔

8 جون کو بغاوت کے الزام میں 8 ماہ سے زائد حراست میں رہنے والے  نیشنل پارٹی (UP) کے رہنما اور ہفت روزہ ترک سولو کے کالم نگار گوکچے فرات کو صدر رجب ظیب اردگان کی توہین کے الزام میں گیارہ ماہ اور بیس دن کی قید کا حکم سنا دیا گیا۔

9 جون کو گولن گرہپ کے خلاف بالی کیسر میں جاری تحقیقات کے سلسے میں کم از کم گیارہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں بالیکیسر یونیورسٹی کے پانچ اساتذہ، دو امام، ایک سیکیورٹی اہلکار، دو تعمیراتی مزدور اور ایک ریٹائرڈ گارڈ شامل ہیں۔

9 جون کو فرانسیسی فوٹو جرنلسٹ ماتھیاس دیپاردوں جسے 8 مئی کو ترکی میں حراست میں لیا گیا تھا اسے فرانس ڈی پورٹ کر دیا گیا۔

9 جون کو چئرمین ایمنسٹی انٹرنیشنل ترکی بورڈ اور وکیل تانیر کلیچ کو ازمیر کی ایک عدالت نے گولن گروپ کے خلاف جاری تحقیقات کے سلسے میں گرفتار کر لیا۔

روزنامہ جمہوریت کے مطابق 10 جون کو دس افراد جن میں ترک کمیونسٹ پارٹی کے تین ممبران بھی شامل ہین انھیہں صدر رجب ظیب اردگان کی مبینہ توہین کے الزام میں گیارہ ماہ اور بیس دن کی قید کا حکم سنا دیا گیا۔

جون کو ترکی کے جنوبی صوبے عدنہ کی اعلیٰ کرمنل عدالت نے ترکی کی وزارت انصاف سے درخواست کی ہے کہ صحافی بلال اوغتچو کی ترک شہریت دہشت گردی کے الزامت کے تحت منسوخ کر دی جائے۔ وہ عدنہ میں حکومت کی جانب سے  پندرہ جولائی کی بغاوت کی کوشش کے بعد بند کر دیے جانے سے قبل روزنامہ زمان اور جہان نیوز ایجنسی کے نمایندے تھے۔ اوغوتچو کو گولن گروپ  کی ممبرشپ کے الزام میں پندرہ برس کی قید کا سامنا ہے۔

11 جون کو بغاوت کے بعد جاری تحقیقات کے سلسے میں اسپارتا کے صوبے میں زیر حراست خاتون او اے کو اس کے گھر سے 1,291 کلومیٹر دور سیئرت کی جیل میں منتقل کر دیا گیا۔ آکتف حبر نیوز پورٹل کے مطابق او اے سیئرت میں تفتیش کی غرض سے منتقل کیے جانے سے قبل اسپارتا میں حراست میں لیا گیا تھا۔

11جون کو ترکی کے گولن گروپ سے مبینہ تعلق کے الزام میں پولیس نے چھ اہم صوبوں میں ڈاکٹروں، اماموں اور گھریلو خواتین سمیت کم از کم انتالیس افراد کو حراست میں لے لیا۔ سامسن میں پندرہ اساتذہ، ایک ڈاکٹر، ایک دوکاندار اور گولن سے منسلک ہائی اسکول کا ایک استاد شامل ہیں جنھیں سمارٹ فون اپلیکیشن بائی لاک استعمال کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

11 جون کو ایک ترک ہیلتھ ورکر کو ترکی کے گولن گروپ کا رکن ہونے کے الزام میں چھ سال چھ مہینے اور بائیس دن کی قید کی سزا سنا دی گئی۔

12جون کو ترک وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سوشل میدیا پر گولن تحریک اور کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے حق میں پراپیگنڈہ کرنے کے الزام میں کم از کم  38 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔  وزارت نے بتایا کہ 391 افراد کے کلاف تحقیقات کی گئی تھیں جن میں سے صرف 48 افراد کو پانچ سے بارہ جون کے دوران حراست میں لیا گیا۔

12 جون کو ترکی بھر میں گولن گروپ کے خلاف جاری تحقیقات کے سلسے میں 386 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ وزارت داخلہ نے تحریری بیان میں کہا کہ پانچ سے بارہ جون کے دوران گروپ سے مبینہ تعلقات کے الزام میں  386 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

13 جون کو انقرہ کے چیف پولیس افسر نے ترکی کی وزارت داخلہ میں کام کرنے والے 42 افراد کو ترکی کے گولن گروپ سے مبینہ تعلقات کے الزام میں حراست میں لے لیا۔

14 جون کو استنبول کی ایک عدالت نے مرکزی حزب اختلاف کی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی (CHP) کے رکن اسمبلی اور سابقہ صحافی انس باربراوغلو کو نیشنل انٹیلیجنس آرگنائزیشن کے ٹرکوں کے متعلق ایک رپورٹ پر 25 سال قید کی سزا سنا دی۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو نیوز کے مطابق 14 جون کو کیسری کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے گولن گروپ کے متعلق تحقیقات کے سلسے میں 14 کاروباری شخصیات کے خلاف حراست کے وارنٹ جاری کر دیے۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو نیوز کے مطابق 14 جون کو استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے گولن گروپ کے متعلق تحقیقات کے سلسے میں 189 وکیلوں کے خلاف حراست کے وارنٹ جاری کر دیے۔

ترکی 15 جولائی کو ایک بغاوت کی کوشش سے بچ گیا تھا جس میں 240 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ ناکام بغاوت کی کوشش کے فوراََ بعد اے کے پی کی حکومت اور صدر رجب طیب اردگان نے الزام گولن کے پیروکاروں پر لگا دیا۔

گروپ اس الزام کو کلیتاََ مسترد کرتا ہے۔

بغاوت کی کوشش کے بعد سے سرکاری اداروں سے 135,000 سے زائد افراد کو نکالا گیا اور 48,000 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار شدگان میں صحافی، جج، پراسیکیوٹرز، پولیس اور فوجی افسران، اساتذہ، گورنرز اور حتیٰ کہ ایک کامیڈین تک شامل ہیں۔

 

 

 

 

 

 

Related News