ہیومن رائٹس واچ نے یکم جون کو اپنے ایک بیان میں  کہا ہے کہ برما کی انتظامیہ نے ترک پناہ گزین مہمت فرقان شوکمین کو تھائی لینڈ کے رستے ملک بدر کر دیا اور اس کی زندگی کو سنجیدہ نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خطرے سے دوچار کر دیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز نے کہا:’’ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کہ مزید انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو، برما اور تھائی لینڈ کی حکومتوں کو فوراََ اعلان کرنا چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ کو اداروں کو انقراہ کو مطلوب ترک شہریوں تک رسائی دیں گے تاکہ ان کے کیسز کا جائزہ لیا جا سکے اور کسی بھی ایسے شخص کو ترکی کے حوالے نہیں کریں گے جسے پناہ گزین قرار دیا جائے۔

’’برما اور تھائی لینڈ نے اس کے پناہ گزین ہونے کے دعوے اور ترکی میں غیر شفاف مقدمے اور برے سلوک  کے حقیقی خطرات کے باوجود انقرہ کے دباو کے سامنے ہتھیار ڈال کر ملک بدر کر کے فرقان شوکمین کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے۔ ‘‘ ایڈمز نے مزید کہا۔

رنگون میں گولن تحریک کے حامیوں کی جانب سے قائم شدہ اور اب غیر فعال بین الاقوامی اسکول میں ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز شوکمین کو مبینہ طور پر 24 مئی کو رنگون انٹرنیشنل ائر پورٹ پر گرفتار کیا گیا۔ اور ترک حکام کی درخواست پر اسے تھائی لینڈ کے راستے ترکی ملک بدر کر دیا گیا۔ تھائی لینڈ میں اسے حراستی مرکز میں 24.گھنٹے تک بند رکھا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے حقوق انسانی (OHCHR)اور دیگر یواین ایجنسیوں نے برما اور تھائی لینڈ کے حکام کو آگاہ کیا تھا کہ اس بات پر یقین کرنے کا جواز موجود ہے کہ اسے ترکی میں سنگین نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے باوجود شوکمین کو ڈی پورٹ کر دیا گیا۔‘‘

شوکمین کو 27 مئی کو استنبول ائر پورٹ سے گرفتار کیا گیا اور تحقیقات کے لیے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ اس نے رنگون ائر پورٹ پر برما کی پولیس کی جانب سے ترک حکام کے حوالے کیے جانے سے قبل دنیا سے اپیل سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھی۔

رکی 15 جولائی کو ایک فوجی بغاوت سے بچ گیا جس میں 240 سے زائد افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ اس بغاوت کے بعد حکومت اور صدر طیب اردگان نے اس کوشش کا الزام گولن تحریک پر لگا دیا۔رک حکومت پہلے ہی بیرون ملک کریک ڈاون شروع کرنے سے قبل 120,000 سے زائد افراد کو تحریک سے مبینہ یا حقیقی تعلق کی بنیاد پر حراست میں لے چکی ہے،صدر اردگان نے غیر ملکی حکومتوں سے اپنے ممالک میں گولن کے حامیوں کو سزا دینے پر زور ڈالا۔  اب تک صرف چند ہی ممالک نے اس درخواست پر اقدامات کیے ہیں جن میں سعودی عرب، ملایشیا اور جارجیا شامل ہیں۔

Related News