یورپی پارلیمنٹ کے صدر انٹونیو تاجینی نے پیر کے روز ترکی کی جانب سے سزائے موت کی بحالی کے لیے عوامی ریفرینڈم کے متوقع فیصلے کے خلاف شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے ایسا کوئی بھی فیصلہ یورپی یونین کے لیے سرخ لکیر کے مترادف ہو گا۔

ریفرنڈم میں کامیابی اور اختیارات میں اضافے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ وقت آچکا ہے کہ ترکی سزائے موت کی بحالی پر غور کرے۔

اردگان نے اتوار کو اپنی وکٹری کی تقریر کو استعمال کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ فوری طور پر سزائے موت کی بحالی کے لیے وزیر اعظم بنالی یلدرم اور نیشنلسٹ اپوزیشن کے رہنما سے بات کریں گے۔

اگر یہ (قانون) میرے پاس آتا ہے تو میں اسے منظور کر لوں گا۔  لیکن اگر (پارلیمان سے ) کوئی مدد نہ ملی تو پھر کیا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ پھر ہم ایک اور ریفرنڈم کی جانب جائیں گے۔ اردگان کے بیان کے رد عمل میں تاجینی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ مجھے سزائے موت پر ریفرنڈم کی بات پر تشویش ہے۔ یہ یورپی یونین کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔

ترکی سرکاری طور پر 2005 سے یورپی یونین کا رکن بننے کے لیے امیدوار ملک کی حیثیت سے مذاکرات کرتا رہا ہے اور اس نے یورپی یونین کی اصلاحات کے سلسلے میں 2004 میں سزائے موت کو بھی ختم کر دیا تھا۔

سزائے موت کے متعلق بحث 15 جولائی کی ناکام بغاوت کے بعد سے دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

یورپی یونین کے کئی ذمہ داران نے کہا ہے کہ سزائے موت کی بحالی کی صورت میں ممبرشپ کے لیے ہونے والے مذاکرات رک جائیں گے۔

ایک اور پیغام میں تاجینی نے کہا کہ وہ ترکی کے ریفرنڈم پر آفس آف ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوشنز اینڈ ہیومن رائٹس کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ترکی کو ایک امیدوار ملک کی حیثیت سے قانون کی حکمرانی اور بنیادی حقوق کا حترام کرنا چاہیے۔

Related News