ایپوہ ملایشیا میں ٹائم انٹرنیشنل اسکول کے پرنسپل کو اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ منگل کو کوالالمپور میں ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے۔

کارامان کے وکیل کی جانب سے کوالالمپور کے پولیس اسٹیشن میں منگل کے دن درج کرائی گئی رپورٹ کے مطانق کارامان کو اپنے اپارٹمنٹ کی پارکنگ لاٹ میں اپنی کار کی جانب جاتے ہوئے پانچ افراد نے اغوا کر لیا۔

 

اسی دوران ملایشیا میں مقیم گولن تحریک کے ہمدردترک تاجر احسان اسلان کو بھی ایک ایسے ہی واقعہ میں منگل کے روز اغوا کر لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان کے اغوا کی پولیس رپورٹ درج کر لی گئی۔ ان کی اہلیہ کے مطابق اسلان کولالمپور میں قائم ملایشین ترکش چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے رکن ہیں اور ان کا سیل ملایشیا کی وزارت دفاع میں ہے۔

کارامان کے ایک دوست نے پولیس میں رپورٹ درج کراتے ہوئے لکھا کہ ان پانچ افراد نے ترگائے کو اپنی گاڑیوں میں سے ایک WQE 8216 نمبر کی حامل نسان المیرا کار میں زبردستی ڈال دیا۔ اس واقعہ میں استعمال ہونے والی دوسری کار پروٹون جین ۔ ٹو تھی جس کا نمبر BFD-6198 تھا۔

جب کارامان اپنے ایک دوست اور وکیل سے ملاقات کے لیے نہیں پہنچا تو وہ دونوں اس کے اغوا کے خطرے کو بھانپ کر اس کے اپارٹمنٹ پہنچے کیونکہ گولن تحریک کے دو دیگر ہمدردوں کو ملایشیا میں ترک انٹیلی جنس پہلے ہی اغوا کر چکی ہے۔

پارکنگ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو دیکھنے پر کارامان کے دوست کو پتا چلا کہ پانچ نا معلوم افراد اسے اغوا کر کے گاڑی میں ڈال کر انجان مقام پر لے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ترگائے کے دوست نے کہا کہ میں پولیس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس اغوا کی تحقیقات کریں اور امیگریشن کے محکمے کو ہدایت کریں کہ ترگائے کو ملایشیا سے منتقل کرنے کی کوشش کو روکا جائے۔ میں اپنی حفاظت کے متعلق فکرمند ہوں اور پریشان ہوں کہ کہیں یہ سب کچھ میرے اور میرے ترک دوستوں کے ساتھ بھی نہ ہو جائے،

گذشتہ برس اکتوبر میں دو ترک باشندوں کو ملایشین حکام نے ترک حکومت کے کہنے پر اس وقت ملک بدر کر دیا تھا جب ترک انٹیلیجنس نے انھیں اغوا کر لیا تھا۔

گزشتہ ستمبر میں ترک سفارت خانے نے ملایشین حکام سے اس ایشیائی ملک میں گولن سے منسلک اسکولوں کو بند کرنے کو کہا تھا۔  مبینہ طور پر ترک سفیر نے حکام سے گولن تحریک کے ہمدردوں کے خلاف قانونی ایکشن لینے کو بھی کہا ہے۔

ترک حکومت تحریک پر پندرہ جولائی کی بغاوت کی کوشش کا الزام لگاتی ہے اگرچہ تحریک ایسے ہر الزام کو رد کرتی ہے۔ تحریک 170 سے زائد ممالک میں تعلیمی اور رفاہی سر گرمیوں کے لیے جانی جاتی ہے مگر ترک وزارت خارجہ کے افسران ملکی دباو کو تحریک کے بیرون ملک اداروں تک پھیلانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ (ترکش منٹ)