منظر عام پر آنے والی ایک نئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عدانہ کے صوبے میں ہفتے کے دن میلاد النبی منانے والے فرقان فاونڈیشن کے اراکین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا۔ فرقان فاونڈیشن ایک معاشرتی و مذہبی شہری تنظیم ہے جو حکومت کے خلاف اپنے سخت نقطہ نظر کے لیے مشہور ہے۔

55 سیکنڈ کی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون پولیس اہلکار، ایک باحجاب خاتون کے سر سے نقاب کھینچ کر اتار رہی ہے جبکہ وہ خاتون بری طرح سے چلا رہی ہے کہ چھوڑ دو، چھوڑ دو۔

اس دوران پولیس افسران کو نہایت قریب سے فرقان فاونڈیشن کی خواتین کے چہروں پر آنسو گیس فائر کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایک اور ویڈیو میں پولیس افسران کو فرقان کے سول نافرمانی میں خاموش کھڑے افراد پر جھگڑے کے بعد لاٹھی چارج کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
تیسری ویڈیو میں ایک خاتون پولیس اہلکار کو پہلے سے ہتھکڑیوں میں جکڑے فرد کو ٹھوکر لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جسے پولیس نے حراست میں لینے کے بعد زمین پر لیٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔